لکھنؤ : شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے ) اورمجوزہ قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)کی مخالفت میں چوک واقع گھنٹہ گھر خواتین کے پُرامن مظاہرہ کا گواہ بن چکا ہے۔ گزشتہ جمعہ سے یہاں عورتیں احتجاج-مظاہرہ کررہی ہیں اور سی اے اے- این آرسی کے خلاف ان کے غصے کو جسم گلادینے والی سردی بھی کم نہیں کرپارہی ہے۔
دن رات مسلسل جاری مظاہرہ میں شامل عورتیں کبھی قومی نغمہ گاکر تو کبھی حب الوطنی پر مبنی نغمے اور کبھی رنگولی کے ذریعہ اپنا احتجاج کررہی ہیں۔ وہیں دوشنبہ کی شام گومتی نگر کے اجریاؤں واقع درگاہ کیمپس میں شروع ہوا مظاہرہ منگل کو بھی دیر رات تک جاری رہا۔ درگاہ کیمپس میں عورتیں کھلے آسمان کے نیچے الاؤ روشن کرکے اپنا احتجا ج ومظاہرہ کررہی ہیں۔

گھنٹہ گھر پر عورتوںکا ایک گروپ آزادی-آزادی کے نعرے لگارہا ہے۔ وہیں دوسری طرف کچھ عورتیں قومی ترانہ پیش کررہی ہیں۔ کچھ عورتیں اور بچے کاغذ پر ترنگا بناکر اس میں رنگ بھررہے ہیں تو کچھ عورتیں ہاتھوںمیں ترنگا لہرا کر دوسروںکا جوش بھررہی ہیں۔ عورتوںکے ہجوم میں آئین تیار کرنے والے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر لہراتی نظر آتی ہے۔ منگل کو آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لاء بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے گھنٹہ گھر پہنچ کر خواتین کے مظاہرے کو اپنی حمایت دی۔










