ایسے افراد جو ذیابیطس ٹائپ 2 کے شکار تو نہیں ہوتے مگر بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
ہائی بلڈ شوگر کے شکار ایسے افراد کے لیے عموماً prediabetes کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
اگر آپ ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے مرض کو ہمیشہ خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانا عادت بنالیں۔
جی ہاں واقعی بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کا یہ آسان ترین طریقہ ہے جس کا انکشاف ایک طبی تحقیق میں کیا گیا۔
ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں کینسر سے متاثر ہونیکا خطرہ بڑھنے کا انکشاف
جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانے والے افراد کے بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ تنہا کھانے والوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
درحقیقت گھر والوں کے ساتھ زیادہ کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا کے استعمال کے باوجود بلڈ شوگر کی سطح میں معمولی اضافہ ہوتا ہے جبکہ گلوکوز کی سطح تیزی سے معمول پر آجاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق انسانی جسم اپنے پیاروں کی موجودگی پر زیادہ افادیت سے خود کو ریگولیٹ کرتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی جسم موروثی طور پر سماجی میل جول کا عادی ہوتا ہے، اپنے پیاروں کو قریب ہونے سے جسمانی توانائی خود کو ریگولیٹ ہونے پر خرچ ہونے لگتی ہے۔
جوان افراد میں فالج جیسا جان لیوا مرض زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے، تحقیق
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے اور ہمارا جسم زیادہ بہتر کام کرنے لگتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت نہ صرف بلڈ شوگر بلکہ اس سے جسمانی درجہ حرارت ریگولیٹ کرنے کا عمل بہتر ہوتا ہے جبکہ تناؤ میں کمی آتی ہے۔
محققین کے مطابق بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے نہ صرف یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ ہم کیا کھا رہے ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کن کے ساتھ کھا رہے ہیں، ہمارے رشتے دار جسمانی صحت کو درست رکھنے میں متحرک کردار ادا کرتے ہیں۔
وہ عام غذا جس کو زیادہ کھانا متعدد دائمی امراض اور موت کا خطرہ بڑھاتا ہے
انہوں نے کہا کہ پیاروں کے قریب رہنا طبی نگہداشت، غذا یا ورزش کا متبادل نہیں بلکہ یہ ایک اور ذریعہ ہے جس سے آپ خود کو ہائی بلڈ شوگر سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھنے سے روکنا جسم کے لیے مفید ہوتا ہے کیونکہ اس سطح کے بڑھنے سے ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔