نئی دہلی، یکم اگست: لوک سبھا نے منی پور کے معاملے پر اپوزیشن کے زبردست ہنگامے کے درمیان آج تین بلوں کو منظور کر لیا اور ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ دو بارکے التوا کے بعد سہ پہر 3 بجے جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین دوبارہ چاہ ایوان میں آگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ اس پر صدر نشیں راجندر اگروال نے وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے کا نام پکارا جس کے بعد مسٹر رائے نے قومی راجدھانی خطہ دہلی (ترمیمی) بل لانے کی وجہ بتاتے ہوئے ایک بیان ایوان کی میز پر رکھا۔ . اس کے بعد مسٹر رائے نے وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے پیدائش اور موت کے اندراج (ترمیمی) بل 2023 کو ایوان میں پیش کیا۔ بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے گمن سنگھ دامور نے کہا کہ تکنیکی ترقی کے بعد پیدائش اور موت کے رجسٹریشن ایکٹ۔ 1969 میں ترمیم کرنا ضروری ہو گیا ہے ۔
بچے کی پیدائش کے وقت اور جگہ اور قومیت کو فوری طور پر رجسٹرڈ کر کے ڈیٹا پورٹل سے منسلک کیا جانا چاہیے ۔ اس طرح پیدائش کا سرٹیفکیٹ ڈیجیٹل ہو جائے گا اور والدین کے آدھار سے لنک ہونے کی وجہ سے شناخت واضح رہے گی۔









