چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں منگل کی شام ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ یہاں کے نجی اسپتال میں سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران مبینہ طور پر زہریلی گیس سے 3 مزدوروں کی موت ہوگئی۔
اطلاع پاکر پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں انجام دیں۔ واردات کے سبب شہریوں نے اسپتال انتظامیہ کی لاپرواہی پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔
پولیس افسران نے بتایا کہ یہ واقعہ شام دیر گئے پچپیڑی ناکہ علاقے کے رام کرشنا کیئر اسپتال میں پیش آیا۔ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اگر کسی کی لاپرواہی پائی گئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مزدوروں کے اہل خانہ میں کہرام مچا ہوا ہے۔ غمزدہ خاندان نے انصاف کلا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق رام کرشنا اسپتال میں مزدور سیپٹک ٹینک کی صفائی کر رہے تھے کہ اچانک ٹینک سے نکلی گیس سے مزدوروں کی سانسیں گھٹنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے تینوں بے ہوش ہوکرگرپڑے اورکچھ دیر بعد ہیں انہپوں نے دم توڑ دیا۔ اس واردات سے پورے اسپتال میں افراتفری مچ گئی۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور کافی کوشش کے بعد تینوں مزدوروں کی لاشیں باہر نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مزدوروں کی موت سیپٹک ٹینک میں زہریلی گیس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور معاملے میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وہیں اس واردات سے اسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، کیونکہ سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا، جس سے مزدوروں کی موت ہو گئی۔
متوفیوں کے لواحقین نے قصوارواروں کے خلاف کارروائی اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی۔