واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور چین کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے (ڈی نیوکلیئرائزیشن) پر بات چیت شروع کرنا چاہتے ہیں، یہ وہ مسئلہ ہے جسے وہ پہلے بھی اٹھا چکے ہیں اور ساتھ ہی وہ شمالی کوریا کے ساتھ رکی ہوئی سفارت کاری کو دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔
ڈان میں شائع برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پیر کے روز جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان باتوں میں سے ایک جو ہم روس اور چین کے ساتھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ہے اور یہ بہت اہم ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ایک بڑا مقصد ہے، لیکن روس اس کے لیے تیار ہے، اور میرا خیال ہے کہ چین بھی اس کے لیے تیار ہو جائے گا، ہم ایٹمی ہتھیاروں کو پھیلنے نہیں دے سکتے، ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کو روکنا ہوگا، ان کی طاقت بہت زیادہ ہے۔
اسی روز وائٹ ہاؤس کی ایک علیحدہ تقریب میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے, تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ بات چیت کب ہوئی؟۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے کی بات کر رہے ہیں، ہم اس میں چین کو بھی شامل کریں گے، چین اس وقت کافی پیچھے ہے، لیکن وہ 5 سال میں ہمارے برابر پہنچ جائے گا، ہم چاہتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیار ختم ہوں، یہ بہت زیادہ طاقت ہے، اور ہم نے اس پر بھی بات کی ہے۔
امریکی صدر کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں آئے ہیں جب انہوں نے اس سال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
کم جونگ نے ریپبلکن صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد جنوری سے ٹرمپ کی بار بار کی گئی کالز کو نظر انداز کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے 2017 سے 2021 کے دورِ صدارت میں شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست سفارت کاری شروع کی تھی، لیکن وہ اس میں ناکام رہے اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔