انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی نے فلسطین پر صہیونی مظالم کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل پوری امت مسلمہ کے لیے خطرہ ہیں۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی مقاومتی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا کہ امت مسلمہ کی قرآن کریم سے وابستگی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے، حتی کہ بعض لوگوں کا تعلق صرف ظاہری رسم و رواج تک محدود ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ امریکہ اور اسرائیل پوری امت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کا ہدف امت کے مقدسات اور اسلامی شناخت کو مٹانا ہے۔ ان خطرات کا مؤثر مقابلہ صرف قرآن کی ہدایت پر مبنی سنجیدہ اقدام سے ہی ممکن ہے۔
الحوثی نے واضح کیا کہ غزہ کے مظلوم فلسطینی عوام کو جو المناک ظلم اور بھوک کا سامنا ہے، وہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسرائیل نے انسانی امداد کو بھی قتل اور نسل کشی کے ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ غزہ میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں جبکہ دو ارب مسلمان اور کروڑوں عرب صرف تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
رہبر انصار اللہ نے کہا کہ غزہ کے بچوں کی بھوک سے موت کے مناظر امت مسلمہ کے لیے باعث شرم ہیں۔ عرب دنیا سب سے زیادہ جوابدہ ہے۔ امت کی بے حسی سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ یقین ہوا ہے کہ ان کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمنی عوام ابتداء ہی سے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یمن کو غزہ کی حمایت کی پاداش میں ایک شدید نفسیاتی اور میڈیا وار کا سامنا بھی ہے تاکہ عوام کو ان کے اصل مسئلے سے دور کیا جائے۔ لیکن دشمن کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور یمنی عوام اپنی راہ سے پیچھے نہیں ہٹے۔