روس میں ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ امریکی رویّے میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہوسکی۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس میں تعینات ایران کے سفیر کاظم جلالی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ابھی تک حالات سازگار نہیں ہوئے، کیونکہ امریکیوں نے نہ تو اپنے طرز عمل میں تبدیلی کی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی واضح اقدام کیا ہے۔
روسی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے جلالی نے کہا کہ ایرانی عوام کے درمیان اب اس بات پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ مذاکرات کا اصل مقصد کیا ہے؟ اگر مذاکرات ضروری ضمانتوں کے بغیر آگے بڑھیں، یا یہ محض ایک فریب کاری پر مبنی چال بن جائیں، تو ایسے میں مخالف فریق پر اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے؟
کاظم جلالی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ اور دیگر اعلی حکام کئی بار اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کے لیے کچھ شرائط کی تکمیل ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر بین الاقوامی قانون کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور دنیا میں جنگل کا قانون رائج ہو چکا ہے۔
ایرانی سفیر نے زور دے کر کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت تمام رکن ممالک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی بشمول یورینیم کی افزودگی، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، اور یہ معاہدہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تکنیکی تفریق نہیں کرتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ NPT کے تحت ان جوہری تنصیبات پر کسی بھی فوجی حملے کی ممانعت ہے جو عالمی جوہری ایجنسی کی نگرانی میں ہوں۔ اسلامی جمہوری ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن ہے اور اس کی پرامن جوہری تنصیبات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی سخت ترین نگرانی میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت ایجنسی کے مجموعی نگرانی بجٹ کا 75 فیصد سے زائد حصہ ایران کی جوہری تنصیبات کی نگرانی پر صرف ہوتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ IAEA اور متعدد دیگر ممالک، چاہے وہ NPT کے رکن ہوں یا اس کے مقرر کردہ نگہبان، اس مسئلے پر کوئی واضح مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔