اسپیس ایکس، ٹیسلا، دیگر کئی کمپنیوں کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے حال ہی میں دولت اور خوشی کے تعلق پر دلچسپ بیان دیا ہے، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں پوسٹ کرتے ہوئے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کہا کہ جس نے بھی کہا کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی، وہ واقعی جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، ان کے اس مختصر مگر گہرے بیان نے صارفین کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور اس پر مزاح، میمز اور مختلف انداز میں ردعمل سامنے آیا۔
صارفین نے اس بیان پر متنوع آراء کا اظہار کیا۔ کچھ نے کہا کہ دولت خوشی کی ضمانت تو نہیں مگر اس کی کمی یقیناً روح پر اثر ڈال سکتی ہے۔ دیگر نے مزاحیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں 10 لاکھ ڈالر بھیجیں تاکہ ہم آپ کی بات کو سمجھ سکیں، اور ایک صارف نے لکھا کہ فلسفی بننا اس وقت آسان ہوتا ہے جب آپ کرایہ ادا کر دیتے ہیں۔
اسی دوران کئی صارفین نے دولت سے زیادہ انسانی ہمدردی اور کسی کی مدد کرنے کی اہمیت پر زور دیا، یہ کہتے ہوئے کہ خوشی صرف مالی وسائل میں نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی میں بھی پوشیدہ ہے، اور ایلون مسک اپنی اربوں ڈالر کی دولت سے اس موقع کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایلون مسک کی دولت نئے ریکارڈز قائم کر رہی تھی، مسک حال ہی میں دنیا کے پہلے شخص بنے تھے جن کی مجموعی دولت 800 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، حالانکہ اب یہ رقم کچھ کم ہو چکی ہے۔
مسک کی یہ پوسٹ ایک مرتبہ پھر دنیا کے سب سے امیر افراد اور دولت کے معنوں پر ایک دلچسپ بحث کو جنم دینے کا سبب بنی، جس میں مالی حیثیت کے باوجود خوشی کے حقیقی مفہوم پر غور و فکر کیا گیا۔