اسرائیلی فوجیوں اور حماس کی ایک دوسرے خلاف بمباری اور راکٹ حملوں میں غزہ کے عام شہری شدید متاثر ہوئے ہیں، رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، مکینوں کا کہنا ہے کہ ’ہر جنگ میں اندھا دھند بمباری کی وجہ سے ہمیں اپنا گھر چھوڑنا پڑتا ہے‘۔

اسرائیلی فوجیوں نے آج غزہ کی پٹی کے ارد گرد کے صحرا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور جنگ زدہ سرحدی علاقے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کارروائیاں کی ہیں جبکہ حماس کے ساتھ جاری جھڑپوں کے تیسرے روز تک ہلاکتوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کر چکی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں ایک لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
Read our Flash Update #2 on the escalation in the #GazaStrip and Israel.
🔗https://t.co/aM3ynzlbNo pic.twitter.com/p3OFco55Md
— OCHA oPt (Palestine) (@ochaopt) October 8, 2023
غزہ کے رہائشی عامر عاشور کی حاملہ بیوی کی ڈلیوری اس وقت ہوئی جب 7 اکتوبر کی رات کو اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری شروع کی تھی۔
دونوں میاں بیوی قریبی زچگی ہسپتال پہنچے تھے جہاں جوڑے کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تھی، بچے کی پیدائش کے بعد وہ خوف میں مبتلا تھے کیونکہ ان کا گھر زمین بوس ہوچکا تھا۔
فائل فوٹو: اے ایف پی
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک فضائی اور زمینی حملوں کے بعد اسرائیلی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر راکٹ حملے کیے تھے، جن میں مغربی علاقے النصر میں 11 منزلہ عمارت بھی شامل ہے جن میں عامر عاشور رہائش پذیر تھے، اس شہر میں تقریباً 80 خاندان آباد تھے۔
حماس کے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے ’حالتِ جنگ‘ کا اعلان کردیا تھا، دونوں جانب سے شدید راکٹ حملوں اور بمباری کی وجہ سے اب تک 700 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں، یہ 1973 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد اس کا سب سے بڑا نقصان ہے، دوسری جانب غزہ کے حکام نے کم از کم 413 اموات کی اطلاع دی ہے۔









