برطانوی راج کے ایک افسر سر مورٹیمر ڈیورنڈ نے 125 سال پہلے کاغذی نقشے پر ایک تصوراتی لکیر کھینچی تھی۔
شاید انہیں بھی اندازہ نہ ہوگا کہ سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزر گاہوں میں انھی کے نام سے منسوب یہ لکیر، ڈیورنڈ لائن،اگلی صدی میں کن مشکلات کو جنم دے گی۔

ہیلی کاپٹر کی نیچی پرواز کے دوران اس سرحدی لکیر کے ارد گرد علاقوں کا فضائی جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں کہیں بنجر پہاڑی چوٹیاں ہیں اور کہیں چلغوزوں کے جنگلات ان پہاڑوں پر پھیلے ہیں، مگر ان سب میں بین الاقوامی سرحد کہاں ہے، کچھ ماہ پہلے تک اس کا اندازہ نہ تو فضا سے ممکن تھا اور نہ ہی زمین سے۔ زمین پر آبادی کے آثار بہت کم نظر آتے ہیں، کہیں ایسے مکانات ہیں جن کی چھتیں ہیں اور نہ مکین۔
جہاں کہیں آبادیاں دکھائی دیتی ہیں، وہاں کئی عمارتوں کی چھتیں سبز اور سفید رنگ میں رنگی ہیں۔ یہ رنگ یہاں آنے والوں کے لیے پیغام ہیں کہ ان علاقوں میں ریاستِ پاکستان کی رِٹ قائم ہو گئی ہے۔
ایسے میں دور سے ہی بل کھاتی خاردار تاروں میں لپٹی، 12 فٹ اونچی، دو رویہ باڑ نظر آتی ہے۔ اب یہی باڑ ہی وہ لکیر ہے جو 1893 میں سر مانٹیمر ڈیورنڈ نے کھینچی تھی۔











