براعظم افریقہ میں بہنے والا دریائے نیل جہاں دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں اپنی منفرد شہرت رکھتا ہے، وہیں یہ دریا مصر کے معاشی و تہذیبی حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی دریائے نیل کے وسیع و عریض احاطے پر پھیلے علاقے سے احرام مصر کی تعمیر کا سامان کشتیوں پر لاد کر لایا جاتا تھا۔ چار ہزار سال قبل مسیح میں صحرائے اعظم کی وسعت گیری و خشک سالی کے باعث دریائے نیل کی جانب ہجرت کرنے والے مصری آثار قدیمہ اس عظیم تہذیب کا پیشہ خیمہ بنے، جو آج بھی دریائے نیل کے کنارے ملتے ہیں۔









