علامہ اقبال خیر سے ’حکیم‘ بھی تھے اور ’ڈاکٹر‘ بھی، وہ ایک بڑے پتے کی بات کہہ گئے ہیں:
صورت شمشير ہے دست قضا ميں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
بعض کائیاں شارحین کے مطابق اقبال کے اس شعر میں ’نیب‘ کے قیام کا مشورہ تھا اور قومی شاعر کی خواہش کا احترام کیا گیا۔ ’قومی ادارہ برائے احتساب‘ وجود میں آگیا جہاں احتساب دل و جان سے کیا جاتا ہے۔ ’دل وجان‘ والا راز چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک ہونے پر کُھلا، ’ہرچند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے۔‘

چیئرمین نیب کہتے ہیں، ’مگر مچھوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا۔‘
میر تقی میر زبان کے معاملے میں بہت حساس تھے۔ لکھنؤ کے سفر میں ہمسفر سے اس لیے بات نہیں کی کہ ’زبان بگڑتی ہے‘۔ معاملہ میر ہی پر تمام نہیں ہوا، خلافِ محاورہ بات پر بھڑک اٹھنے والے اور بھی تھے۔ مختار مسعود لکھتے ہیں، ’خواجہ حسن نظامی نے ایک بار رسالہ ’منادی‘ میں معافی نامہ شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ میں مولوی اشرف علی تھانوی سے اس بات کی معافی مانگتا ہوں کہ میں نے بہشتی زیور پر فحش نگاری کی تہمت رکھی تھی، مگر میں اپنی اس رائے کے لیے معافی نہیں مانگ سکتا کہ انہیں اردو لکھنی نہیں آتی‘۔
گمان ہے کہ کتاب میں جن شعرا کا ذکر ہے وہ راہیِ ملکِ عدم ہوچکے ہیں اور تب نہیں مرے تو کتاب کا نام پڑھ کر مرگئے ہوں گے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
لفظ ’کُشی‘ سے مل کر ایک ترکیب ’نسل کُشی‘ بنی ہے۔ جس کا مطلب کسی بھی جاندار (انسان ہو یا جانور) کی نسل کا خاتمہ کرنا ہے۔ جیسے امریکا میں ریڈ انڈین کے ساتھ ہوا اور فلسطین میں فلسطینیوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ جب کہ افریقہ میں جانوروں کی کئی نسلوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔







