دنیا کے سب سے بڑے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’یوٹیوب‘ نے اپنے صارفین اور ویڈیو بنانے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ویوز گننے کے طریقہ کار میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔
یوٹیوب کے مطابق پہلے شارٹس اور طویل ویڈیوز کے لیے ویوز کا حساب الگ الگ طریقوں سے لگایا جاتا تھا، لیکن اب پلیٹ فارم پر یکسانیت لانے کے لیے تمام اقسام کی ویڈیوز کے لیے ایک ہی معیار مقرر کیا جا رہا ہے۔
اس نئے نظام کا باقاعدہ اطلاق 24 اگست 2026 سے عالمی سطح پر کر دیا جائے گا۔
اس نئے فیصلے کے تحت جیسے ہی کوئی ویڈیو چلنا شروع ہوگی اور اس کا پہلا فریم سامنے آئے گا، اسی لمحے اس کا ایک ویو شمار کر لیا جائے گا۔
کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں مختلف فارمیٹس کے لیے الگ الگ سسٹمز کی وجہ سے کانٹینٹ کریئیٹرز کو اکثر الجھن کا سامنا رہتا تھا، اور ان کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آ رہا تھا کہ اس الجھن کو ختم کر کے ایک ایسا طریقہ اپنایا جائے جس سے ان کی ویڈیو کی اصل پہنچ اور نمائش کا درست اندازہ ہو سکے۔
یوٹیوب نے وضاحت کی ہے کہ اس نئی تبدیلی کے باعث ویڈیو بنانے والوں کی کُل ویوز کی تعداد پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آئے گی۔
اس قدم سے کریئیٹرز کو برانڈز اور اسپانسرز کے سامنے اپنی ویڈیو کی حقیقی مقبولیت اور وسعت کو بہتر انداز میں پیش کرنے میں مدد ملے گی۔
البتہ ان کریئیٹرز کے لیے جو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے ویڈیو کو صرف شروع کرنے کے بجائے واقعی دیکھنا جاری رکھا، ان کے لیے یوٹیوب اینالیٹکس میں پرانے معیار یعنی انگیجڈ ویوز کا طریقہ کار بھی موجود رہے گا۔
اس فیصلے سے ویڈیو بنانے والوں کی آمدنی یا یوٹیوب پارٹنر پروگرام کی اہلیت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کریئیٹرز کی کمائی پہلے کی طرح انگیجڈ ویوز اور واچ آورز کی بنیاد پر ہی ہوگی۔
اس کے علاوہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شمولیت کی شرائط کے ناموں میں کچھ معمولی تبدیلی کی گئی ہے جنہیں اب کوالیفائیڈ ویوز اور کوالیفائیڈ واچ آورز کہا جائے گا، تاہم اس کا حصہ بننے کے بنیادی اصول وہی رہیں گے۔