غزہ میں فلسطینیوں پر حملے کرنے والے اسرائیلی فوجی پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کا شکار ہونے لگے۔
اسرائیل کی سابق خاتون فوجی اہلکار نے اسرائیلی میڈیاکو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی توپ خانے کی فوج میں ہمیں بتایا گیا کہ ہم صرف دہشتگردوں کو مارتے ہیں لیکن یہ جھوٹ ہے۔
سابق اسرائیلی فوجی نے کہا کہ فلسطینی شہری امن چاہتے ہیں، زندگی چاہتے ہیں، فوج چھوڑنے کے بعد دیکھا کہ کتنے بچے مارے گئے تھے، تو صدمے میں آگئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے مرنے کے مناظر، ماؤں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں یہ احساسِ جرم ختم نہیں ہوتا۔