برسٹل: برطانیہ میں غوطہ خوروں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران لاپتا ہونے والی جرمن آبدوز کا ملبہ 82 سال بعد سمندر کی تہہ سے دریافت کرکے اس کی شناخت کرلی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی علاقے ڈیون کے ساحل سے تقریباً 20 میل دور انگلش چینل میں غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے کچھ عرصہ قبل سمندر کی تہہ میں ایک جنگی ملبہ دریافت کیا تھا، ابتدائی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ یہ دوسری جنگ عظیم کی آبدوز ہے یا پہلی جنگ عظیم کے دور کا کوئی جنگی بحری جہاز۔
رپورٹ کے مطابق ’’آئن ٹیلر اینڈ اسکن ڈیپر‘‘ ٹیم نے اس ملبے کی مزید تحقیق اور شناخت کا فیصلہ کیا۔ 55 سالہ غوطہ خور ڈوم روبنسن اور ان کی ٹیم نے تاریخی ریکارڈز کا جائزہ لینے کے ساتھ تاریخ دان ایلس نیسلے سے بھی مشاورت کی، جس کے بعد اس ملبے کی شناخت جرمن آبدوز یو-672 کے طور پر کی گئی۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق یو-672 دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن بحریہ کے زیر استعمال تھی اور 1944 میں لاپتا ہوگئی تھی۔ انہیں توقع نہیں تھی کہ اس مقام پر اتنی اہم دریافت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق آبدوز کی تلاش کے لیے یہ ٹیم کی دوسری کوشش تھی اور کامیابی ملنے پر وہ حیران رہ گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ٹیم کے لیے انتہائی اہم اور یادگار لمحہ تھا، کیونکہ کئی دہائیوں سے سمندر میں گم رہنے والی ایک جنگی آبدوز کو دوبارہ دنیا کے سامنے لانا غیر معمولی تجربہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبے کو دیکھتے ہوئے یہ خیال بھی ذہن میں آیا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس آبدوز پر موجود اہلکاروں کے لیے جنگ کے دوران حالات کس قدر خوفناک رہے ہوں گے۔
ڈوم روبنسن کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن آبدوزیں دشمن کے جنگی اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرز کی آبدوز میں تقریباً 52 افراد پر مشتمل عملہ تعینات ہوتا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو-672 کی دریافت نہ صرف غوطہ خوروں کے لیے ایک اہم کامیابی ہے بلکہ بحری تاریخ کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ملبہ جنگ عظیم دوم کے دوران انگلش چینل اور اس کے اطراف جاری بحری جنگوں کی یاد دلاتا ہے۔
ڈوم روبنسن اور ان کی ٹیم سمندر میں لاپتا ہونے والے جہازوں اور دیگر تاریخی بحری ملبے کی تلاش کا کام کرتی ہے۔ ٹیم کے لیے یو-672 کی دریافت اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ اس نے کئی دہائیوں سے سمندر کی تہہ میں چھپی ایک جنگی یادگار کی شناخت ممکن بنائی۔