مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کی جانب سے اکثر مستقبل کے حوالے سے پیشگوئیاں کی جاتی ہیں۔
اب انہوں نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے حوالے سے تشویشناک پیشگوئی کی ہے۔
اپنے بلاگ پوسٹ میں تحریر کیے گئے ایک مضمون میں بل گیٹس نے مطالبہ کیا کہ مخصوص شعبوں میں انسانوں کے لیے ملازمتوں کو مختص کیا جائے تاکہ اے آئی ٹیکنالوجی ان کی جگہ نہ لے سکے۔
انہوں نے پیشگوئی کی کہ اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں متعدد ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو کا اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم اعتراف
انہوں نے کہا کہ ‘میرا ماننا ہے کہ اے آئی اور روبوٹس میں بہتری کے ساتھ ہم چند مخصوص شعبوں کو انسانوں کے لیے مختص کر دیں’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے ہم نے قدرتی علاقوں کو مخصوص کیا ہوا ہے تاکہ انہیں نقصان نہ پہنچ سکے’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘جیسے طبی شعبے میں انسانوں کی ضرورت ہے، تصور کریں کہ کوئی روبوٹ آپ کو کسی ناقابل علاج مرض کے بارے میں خبر دیتا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے’۔
یہ مضمون جیفری اپسٹن اسکینڈل میں نام آنے کے بعد بل گیٹس کا پہلا عوامی بیان ہے اور وہ جیفری اپسٹن سے تعلق پر پچتھاوے کا اظہار کرچکے ہیں۔
بل گیٹس نے اپنے مضمون میں انتباہ کیا کہ دنیا بھر کی حکومتیں اے آئی کے اثرات کے پیمانے کے حوالے سے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘اولین ترجیح اے آئی کے لیے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے، نائن الیون حملوں کے بعد امریکی حکومت نے اب تک کی سب سے بڑی تبدیلیاں کی تھیں اور بس قومی سلامتی کو بہتر بنایا، اے آئی کے لیے اس سے بھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے، اس سے نہ صرف قومی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے بلکہ ملازمتیں، تعلیم، توانائی، انتخابات، فضا اور پانی، عوامی صحت، مالیاتی نظام، قوانین کا نفاذ، ٹرانسپورٹیشن اور سب کچھ متاثر ہوسکتا ہے’۔
بل گیٹس نے کہا کہ عالمی تعاون کے حوالے سے امریکا اور چین کے درمیان کچھ تعلق کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجی سے تعلیم پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔
اس سے قبل وہ ماضی میں متعدد بار اے آئی کے حوالے سے بات کرچکے ہیں۔
مارچ 2025 میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ایک دہائی کے دوران اے آئی ٹیکنالوجی اتنی پیشرفت کرلے گی کہ دنیا میں بیشتر کاموں کے لیے انسانوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
بل گیٹس نے کہا کہ ابھی مختلف شعبوں جیسے طب اور تعلیم میں ہمیں انسانی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مگر آئندہ دہائی کے دوران اے آئی ٹیکنالوجی ہی ڈاکٹر اور استاد کی جگہ سنبھال لے گی۔
انہوں نے فروری 2025 میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجیز میں ہونے والی پیشرفت ہر ایک کے لیے قابل رسائی ہوگی اور لگ بھگ ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں تک پہنچ جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی اور ورچوئل اسسٹنٹس کی بدولت امراض کی تشخیص کا عمل بہت زیادہ بہتر ہو جائے گا۔
بل گیٹس نے کہا کہ ‘ایسا بہت تیزی سے ہو رہا ہے اور یہ کچھ حد تک خوفزدہ کر دینے والا بھی ہے کیونکہ یہ برق رفتاری سے ہو رہا ہے’۔
یہ پہلی بار نہیں جب بل گیٹس کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے جوش و خروش کا اظہار کیا گیا۔
اس سے قبل ستمبر 2024 میں بل گیٹس نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی تعلیم اور طب کے شعبوں میں پیشرفت کو بہت تیز کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ماہرین کی توقعات سے بھی زیادہ تیزی سے پیشرفت کر رہی ہے’۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی سے متعدد شعبوں کے لیے کام کرنے والے افراد کی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ‘اے آئی ٹیکنالوجی کمپیوٹرز، فون اور انٹرنیٹ سے بھی زیادہ اثرات مرتب کرسکتی ہے، یہ میری زندگی میں ہونے والی سب سے بڑی ٹیکنالوجی پیشرفت ہے’۔
انہوں نے پیشگوئی کی کہ ایک دہائی کے اندر مختلف شعبے جیسے تعلیم اور صحت نمایاں حد تک بدل جائیں گے۔
بل گیٹس نے خیال ظاہر کیا کہ اے آئی کے باعث کاروباری ہفتے کا دورانیہ مختصر ہوگا اور روایتی کل وقتی ملازمت کی ضرورت گھٹ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر ملازمت اتنی اہم نہیں رہے گی اور ہمارے خیال میں یہ ایک اچھی بات ہے۔