امریکی فوج کے سابق میجر نضال ملک حسن نے 2009 میں ٹیکساس کے فوجی اڈے میں فائرنگ کی تھی، واقعہ میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوئے تھے
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ فورٹ ہڈ فوجی اڈے میں فائرنگ کے مجرم ندال ملک حسن کی سزائے موت 3دسمبر کو براہِ راست نشر کی جائے گی۔
امریکی فوج کے سابق میجرندال ملک حسن نے 2009 میں ٹیکساس کے فوجی اڈے میں فائرنگ کی تھی، واقعہ میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوئے تھے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حسن کو چند ہفتوں بعد افغانستان میں تعینات کیا جانا تھا۔ گرفتاری کے دوران پولیس کی فائرنگ سے وہ جزوی طور پر مفلوج ہوگئے تھے اور وہیل چیئر تک محدود ہوگئے۔
بعد ازاں فوجی عدالت نے اگست 2013 میں ندال ملک حسن کو قتل اور اقدامِ قتل کے 45 الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سابق میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم دیاتھا۔
تاہم اب خبررساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا 3 دسمبر کو فورٹ ہُڈ میں 13 افراد کو قتل کرنے والے مجرم ندال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی پھانسی کی کارروائی براہِ راست نشر کرے گا۔
ٹرمپ نے سابق امریکی میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم دے دیا
یہ اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی اور بے مثال اقدام ہوگا۔
سابق فوجی ماہرِ نفسیات ندال ملک حسن 1945 کے بعد امریکی فوج کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی پانے والے پہلے شخص ہوں گے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو ’ریئل امریکا وائس‘ کے پروگرام ’ہیومن ایونٹس ڈیلی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ندال ملک حسن کی پھانسی کو عوام کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
تاہم پینٹاگون کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ وزیر دفاع درست کہہ رہے ہیں، پھانسی کی کارروائی براہِ راست نشر کی جائے گی۔ مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ندال ملک حسن کو جمعرات کی دوپہر ایک بجے فورٹ ہُڈ میں پھانسی دینے کا فیصلہ کرنا مشکل نہیں تھا، کیونکہ 2009 میں فائرنگ کا واقعہ بھی اسی مقام پر، ہفتے کے اسی دن اور تقریباً اسی وقت پیش آیا تھا۔