امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر کیے گئے حملے کے بارے میں کچھ نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کو موصول ہونے والی ایک لیک آڈیو میں انکشاف ہوا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای میزائل حملے سے چند ہی لمحے پہلے کسی کام کی وجہ سے کمپاؤنڈ سے باہر نکلے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای، ان کے خاندان کے افراد اور ایرانی قیادت کو ایک ہی وقت میں نشانہ بنانے کی کوشش میں ایران کے مقامی وقت کے مطابق لیڈر شپ کمپاؤنڈ کو صبح 9 بج کر 32 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔
مجتبیٰ خامنه ای کہاں ہیں؟ ایرانی وزیر نے بتا دیا
رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی یہ آڈیو ریکارڈنگ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے دفتر میں پروٹوکول کے سربراہ مظاہر حسینی کی تھی، جو 12 مارچ کو تہران میں ایک میٹنگ کے دوران خطاب کر رہے تھے۔
رپورٹ میں لیک آڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ رہے، بس ان کی ٹانگ پر معمولی چوٹ آئی تھی جبکہ ان کی بیوی زہرہ حداد عادل اور بیٹا شہید ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے دفتر کے احاطے کے متعدد حصّوں کو بیک وقت نشانہ بنایا، جن میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کے خاندان کے کئی افراد کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں۔