خود کو اکثر مسکراہٹ کے بارے میں یاد دلانا آپ کو اچھا احساس دلاتا ہے۔
مگر مسکرانے کے لیے کسی وجہ کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اکثر ایسا کرنا نہ صرف مزاج کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں ماضی میں ہونے والے تحقیقی کام کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں مسکراہٹ سے صحت پر مرتب اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔
ہر عمر میں ہڈیوں کو مضبوط رکھنا چاہتے ہیں؟ تو روزانہ اتنے وقت تک چہل قدمی عادت بنالیں
1980 کی دہائی کی ایک تحقیق میں رضاکاروں کو ہونٹوں میں ایک پینسل دبا کر رکھتے ہوئے مسکرانے یا بھنویں چڑھانے کی ہدایت کی گئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مسکرانے سے کچھ وقت تک مزاج خوشگوار رہتا ہے۔
اس نئی تحقیق میں شامل محققین نے بتایا کہ مسکرانے سے پرسکون رہنے، زیادہ متحرک اور پرعزم ہونے میں مدد ملتی ہے، جس سے تناؤ گھٹ جاتا ہے جبکہ اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ مسکراہٹ سے سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے مگر اسے زندگی کا حصہ بنانے میں کوئی نقصان بھی نہیں۔
اسمارٹ فونز کا استعمال نوجوانوں کی نیند متاثر کرسکتا ہے، تحقیق
تحقیق کے مطابق مسکرانے میں دماغ میں ایک ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھتی ہے اور کورٹیسول وہ ہارمون ہے جو جسم میں خارج ہو کر تناؤ اور مزاج کو ریگولیٹ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مسکرانے سے اینڈروفن، ڈوپامائن اور سٹروٹونین نامی دماغی کیمیکلز پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو مثبت احساسات سے جڑے ہوتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ تناؤ کے دوران مسکرانے سے دل کی دھڑکن کی رفتار گھٹ جاتی ہے جبکہ ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے۔