اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس کی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے جس اسٹیج سے عوام سے خطاب کیا، اس کے ’شدھی کرن‘ (پاک کرنے کا عمل) کو لے کر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔
ہندو تنظیموں نے اس اسٹیج پر پوجا پاٹھ کر کے تطہیر کا عمل انجام دیا، جس پر اتراکھنڈ کانگریس پارٹی نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اتراکھنڈ کانگریس صدر گنیش گودیال نے اسے بی جے پی کی تنگ نظری قرار دیا ہے۔
کانگریس لیڈر گنیش گودیال نے اس ’شدھی کرن‘ سے متعلق اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جس اسٹیج سے خطاب کیا، اسی اسٹیج کا بی جے پی سے وابستہ لوگوں کی جانب سے ’شدھی کرن‘ کیا جانا انتہائی تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ واقعہ بی جے پی کے ذات پات کے امتیاز اور تنگ نظری کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ معاشرے میں عداوت اور تقسیم کو فروغ دیتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نینی تال کے ایس ایس پی سے اپیل ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قصورواروں کے خلاف مناسب کارروائی یقینی بنائیں۔‘‘
گنیش گودیال نے واضح لفظوں میں کہا کہ جمہوری ہندوستان میں ذات پات کے امتیاز کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم ایسی گھٹیا ذہنیت کی جمہوری اور آئینی طریقے سے سخت مخالفت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ 8 اگست کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس کی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس ریلی میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، ریاستی انچارج کماری شیلجا اور اتراکھنڈ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف یشپال آریہ شامل ہوئے تھے، جو دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ریلی ختم ہونے کے بعد ہندو تنظیم ’شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس‘ نے اس میدان کی تطہیر کی۔
اس دوران انہوں نے ویدک منتروں کے جاپ کے ساتھ پوجا پاٹھ اور یگیہ کیا۔ منتظمین نے الزام لگایا کہ کانگریس کی ریلی میں اسٹیج سے اسلامی نعرے لگائے گئے، جس کی وجہ سے یہاں کی مذہبی پاکیزگی متاثر ہوئی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں طویل عرصہ سے ہندو مذہبی تقریبات اور رام لیلا کا انعقاد ہوتا رہا ہے، اس لیے شدھی کرن ضروری تھا۔