بینک آف امریکہ پر منی لانڈرنگ ضوابط توڑنے کے الزامات لگے ہیں، جس کے نتیجے میں 1.2 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس قدم کے ذریعہ امریکی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی بھی مالیاتی ادارہ قانون سے اوپر نہیں ہے۔ محکمۂ خزانہ کا یہ قدم پورے بیکنگ سسٹم کے لیے ایک سخت وارننگ تسلیم کی جا رہی ہے۔
ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے اس معاملے پر سخت رخ اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اتنے بڑے بینک اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں فیل ہوتے ہیں، تو اس کا اثر صرف ان تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے پورے امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی مالیات کا خطرہ لاحق ہے۔
بینک پر الزام ہے کہ اس نے 1970 کے بینک سیکریسی ایکٹ کی قصداً خلاف ورزی کی ہے۔ یہ قانون بینکوں کو منی لانڈرنگ روکنے میں حکومت کی مدد کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ بینک نے خود بھی اپنی اس غلطی کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ معاملہ صرف عام منی لانڈرنگ کا نہیں ہے۔
محکمۂ ٹریژری کے مطابق بینک نے قومی سلامتی سے متعلق بڑے خطرات کو نظرانداز کیا ہے۔ اس میں چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ جنوب مغربی سرحد پر ہونے والی غیر قانونی مالی سرگرمیوں سے متعلق معلومات چھپانا بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی) نے بھی بینک کے ساتھ 11.6 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ جرمانہ ایران، روس، منشیات کے کاروبار اور عالمی دہشت گردی سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزیوں کے سبب عائد کیا گیا ہے۔ اتنی بڑی کارروائی کے بعد بینک کی جانب سے بھی بیان سامنے آیا ہے۔
بینک کا کہنا ہے کہ وہ مالی جرائم کی روک تھام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھتا ہے۔ اس نے اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں ملازمین کو خاص طور پر اسی کام پر مامور کیا گیا ہے۔
جرمانے کی کل رقم میں سے 750 ملین ڈالر براہ راست ’آفس آف دی کمپٹرولر آف دی کرنسی‘ (او سی سی) کو دیے جائیں گے۔ یہ اس وفاقی بینکنگ ریگولیٹری ایجنسی کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ کی تاریخ میں یہ تیسرا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔
اس سے قبل 2023 میں دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائننس پر تقریباً 4 ارب ڈالر کا جرمانہ لگا تھا۔ بائننس کے بانی چانگپینگ ژاؤ کو جیل کی سزا بھی ہوئی تھی، کیوں کہ ان کے پلیٹ فارم کا استعمال ڈرگس، بچوں کا جنسی استحصال جیسی چیزوں کے لیے ہوا تھا۔
وہیں کناڈا کے ٹی ڈی بینک پر بھی تقریباً 3 ارب ڈالر کا جرمانہ لگ چکا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ ملسل اس قسم کی سخت کارروائی کرتا تھا، تاکہ کوئی بھی سسٹم غلط فائیدہ نہ اٹھا سکے۔