امریکا اور اس کے پڑوسی ملک کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ کینیڈا نے متعدد امریکی مصنوعات پر 50 فیصد تک جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نئے محصولات 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے، جن کے تحت اسٹیل، ایلومینیم، ڈیری مصنوعات، الیکٹرانکس، زرعی آلات، پلپ اینڈ پیپر، فرنیچر اور ملبوسات سمیت مختلف اشیا متاثر ہوں گی۔
کینیڈین حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے ٹیرف کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع اس وقت مزید سنگین ہوا جب حالیہ سرکاری مذاکرات ناکام ہوگئے اور امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر نئے محصولات نافذ کر دیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے 22 اگست سے کینیڈا کی 27.6 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔ جواباً کینیڈا نے امریکی ٹیرف سے متاثر ہونے والے کاروبار اور صنعتوں کی معاونت کے لیے 7.5 ارب ڈالر کے پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔
کینیڈین وزیر خزانہ نے اوٹاوا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ صورتحال کینیڈا کے لیے ایک بے مثال چیلنج ہے، تاہم ملک اس بحران کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔