جب سے انکیتا بھنڈاری قتل واقعہ کے ملزم دُشینت گوتم کو سکم کا گورنر بنایا گیا ہے، مودی حکومت کے خلاف لوگوں کی ناراضگی روزانہ سڑکوں پر دیکھی جا رہی ہے۔
انکیتا کے والدین نے دُشینت گوتم کو گورنر بنائے جانے کے خلاف اتراکھنڈ سے دہلی آ کر مظاہرہ کیا تھا، جسے کئی سیاسی و سماجی تنظیموں نے اپنی حمایت دی۔ اب خاص طور سے کانگریس نے انکیتا کو انصاف دلانے کی مہم سڑکوں پر شروع کر دی ہے۔
اتوار کی دیر شام مہیلا کانگریس کی سربراہ الکا لامبا کی قیادت میں دہلی کے کناڈ پلیس علاقہ میں کینڈل مارچ نکالا گیا، لیکن دہلی پولیس کی کارروائی کے سبب وہاں افرا تفری پھیل گئی۔
کانگریس نے کچھ ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی ہیں، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پُرامن کینڈل مارچ کے خلاف دہلی پولیس نے جابرانہ انداز میں کارروائی کی۔
اس پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’دیوبھومی کی بیٹی انکیتا بھنڈاری کو انصاف دو۔‘‘ ساتھ ہی مطلع کیا ہے کہ ’’آج (اتوار) اس مطالبہ کے ساتھ مہیلا کانگریس کی کارکنان نے مہیلا کانگریس صدر الکا لامبا جی کی قیادت میں ’کینڈل مارچ‘ نکال کر مظاہرہ کیا۔ انصاف کے لیے اٹھی آواز سے مودی حکومت اتنا گھبرا گئی کہ مہیلا کانگریس صدر سمیت تمام کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔‘‘
اس کارروائی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کانگریس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ’’تاناشاہ یاد رکھے، انکیتا کو انصاف دلانے اور ملزم دُشینت گوتم کے استعفیٰ تک ہماری تحریک رکنے والی نہیں ہے۔‘‘
ویڈیو میں مہیلا کانگریس کارکنان ’جاگتے رہو، آئین خطرے میں ہے‘ اور ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ جیسے نعرے بھی بلند کر رہے تھے۔ ان کی حمایت میں کئی مرد حضرات بھی کینڈل مارچ میں شامل ہوئے تھے۔
ایک ویڈیو میں الکا لامبا اور دیگر مہیلا کانگریس کارکنان کو دہلی پولیس کی خاتون ٹیم جبراً حراست میں لیتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ کچھ مرد پولیس اہلکار سابق کونسلر سندیپ تنور کو حراست میں لیتے نظر آ رہے ہیں۔
الکا لامبا نے بھی ایک ویڈیو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں ان کے ہاتھوں سے خاتون دہلی پولیس اہلکار کے ذریعہ جبراً ترنگا پرچم چھینتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس پوسٹ میں الکا نے لکھا ہے کہ ’’مہیلا کانگریس کے ذریعہ آج کناٹ پلیس، دہلی میں ہلّا بولا گیا۔ ترنگے کو پولیس کے ذریعہ بے حد ہی ہتک آمیز طریقے سے ہمارے ہاتھوں سے چھینا گیا۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتی ہیں کہ ’’سنگھیوں کو ہمیشہ سے ترنگے سے نفرت رہی ہے۔ دہلی پولیس ایسا کر لگتا ہے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں تھی۔‘‘