بہار کی راجدھانی پٹنہ کے رام کرشن نگر میں واقع کھیمنی چک سبزی منڈی میں اچانک زبردست آگ لگ گئی۔ علی الصبح تقریباً 4 بجے آتشزدگی کا یہ خطرناک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں درجنوں دکانیں جل کر خاک ہو گئیں۔
اس خطرناک آتشزدگی کے حادثے میں کاسمیٹکس، موبائل مرمت اور کھانے کی دکانیں جلی ہیں۔ آگ کے شعلے اس قدر تیز تھے کہ آگ پر قابو پانے کا بھی موقع نہیں ملا۔ آگ لگنے کی وجہ سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ حالانکہ کچھ لوگوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سامانوں کو بچانے کی بھی کوشش کی، لیکن آگ کے سامنے سبھی بے بس نظر آئے۔
صورتحال اس وقت مزید خوفناک ہو گئی، جب منڈی میں واقع جھونپڑی نما ہوٹل میں رکھے 4 گیس سلنڈر یکے بعد دیگرے زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے۔ سلنڈروں کے دھماکوں کی گونج اور بھڑکتے شعلوں نے پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا۔
آگ کی زد میں آکر وہاں کھڑی کئی موٹر سائیکلیں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی محکمۂ فائر بریگیڈ کی 10 سے 15 گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔
فائر بریگیڈ اہلکاروں نے فوراً محاذ سنبھالا اور آگ کو آس پاس کے رہائشی علاقوں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے پانی کی بوچھاریں شروع کر دیں۔ تقریباً ایک گھنٹے کی سخت جد و جہد کے بعد بالآخر آگ پر قابو پا لیا گیا، لیکن اس وقت تک منڈی کا ایک بڑا حصہ ملبے اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ آگ پر قابو پانے کے بعد جب دھواں چھٹا تو منظر انتہائی دردناک تھا۔
متاثرہ دکاندار اپنی جلی دکانوں کو دیکھ کر روتے بلکتے ہوئے نقصان کا جائزہ لیتے نظر آئے۔ کئی چھوٹے کاروباریوں کی زندگی بھر کی کمائی آگ کی نذر ہو گئی، جس کی وجہ سے اب روزی روٹی کا سنگین بحران کھڑا ہو گیا ہے۔
حالانکہ حادثے میں ہونے والے مجموعی مالی نقصان اور جلنے والی گاڑیوں کا درست تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔ فی الحال آگ لگنے کی اصل وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے اور انتظامیہ معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔
جانچ کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ یہ حادثہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پیش آیا یا کسی لاپروائی کا نتیجہ تھا۔ اس خوفناک حادثے نے ایک بار پھر گنجان منڈیوں اور بازاروں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور حفاظتی اقدامات پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔