اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں واقع جامع مسجد میں رمضان کے آخری جمعہ کی نماز کے پیش نظر انتظامیہ نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔
ضلع انتظامیہ اور پولیس نے ممکنہ ہجوم اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی بندوبست کر دیے ہیں اور مسجد کے اطراف کے علاقوں میں اضافی فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق نماز کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تین کمپنی پی اے سی، 200 ریکروٹ کانسٹیبل اور مختلف تھانوں کی پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حساس مقامات پر خصوصی نگرانی کے انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری نظر رکھی جا سکے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جامع مسجد کے باہر سڑکوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کے مطابق نماز صرف مسجد کے احاطے اور طے شدہ مقامات پر ہی ادا کی جا سکے گی۔ سکیورٹی کے پیش نظر پورے علاقے میں سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
پولیس کی جانب سے ڈرون کے ذریعے بھی علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خفیہ محکمے کی ٹیموں کو بھی متحرک رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت اطلاع مل سکے۔
سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشن کمار بشنوئی نے کہا ہے کہ نماز جمعہ کو پرامن طریقے سے ادا کرانے کے لیے پولیس پوری طرح الرٹ ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دریں اثنا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر انتظامیہ نے ایران کے حق میں کسی بھی قسم کے مظاہرے یا نعرہ بازی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے قانون و انتظام کو متاثر کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پیس کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں بھی پولیس افسران نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی صورت میں سڑک پر بھیڑ جمع کرنے یا ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضلع میں دفعہ 163 نافذ ہے اور پولیس ہر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ نماز جمعہ اور آنے والے تہواروں کے دوران امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔