بالی ووڈ اداکار اور عامر خان کے بھانجے عمران خان 10 اکتوبر کو ممبئی کے ’اگست کرانتی میدان‘ میں ہونے والے جین-زی کے احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔
اس معاملہ میں گزشتہ روز اداکار پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے انہیں ملک چھوڑنے کا نوٹس بھیجا تھا۔ عامر خان کی سابق اہلیہ کرن راؤ نے اس تعلق سے اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
کرن راؤ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ بالی ووڈ اداکار کو اکتوبر کے آخر تک ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف ایک احتجاج میں شامل ہو کر انہوں نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کرن نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے ’’واہ، اب ممبئی پولیس بھی؟‘‘ اس معاملے پر مزید ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کرن نے عمران کا دفاع کیا اور کہا کہ ’’43 سال کی عمر، ان میں سے 40 سال ہندوستان میں گزارے۔ یہیں تعلیم حاصل کی، یہیں کام کیا۔ یہیں کامیابی حاصل کی۔ یہیں ناکامی دیکھی۔ یہیں محبت کی۔ یہیں جدوجہد کی۔‘‘
اس نوٹس سے اختلاف ظاہر کرنے والی کرن راؤ تنہا نہیں ہیں۔ رتک روشن کی ساتھی صبا آزاد نے بھی اس واقعہ پر سخت اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ نوٹس کے بارے میں ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’’کیا؟ یہ سراسر بکواس ہے۔‘‘ بہرحال، عمران خان اس نوٹس کے خلاف بامبے ہائی کورٹ جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں ایک نوٹس ملا ہے، جس میں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کے خلاف جاری احتجاج کی حمایت میں حصہ لے کر ’امیگریشن اینڈ فارینرس ایکٹ‘ کے ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکی شہری عمران خان، ایم جے جے ایم لیگل کے اپنے وکیل ذوالفقار میمن کے ذریعے جمعہ یا پیر تک ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر سکتے ہیں۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا ہے کہ قوانین او سی آئی (اوورسیز سٹیزن آف انڈیا) کارڈ رکھنے والوں کو احتجاج میں حصہ لینے سے نہیں روکتے۔ عرضی میں ممبئی پولیس کے اس نوٹس کو ’انتہائی سخت‘ قرار دیا گیا ہے، جس میں 43 سالہ اداکار کو 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق عمران خان کے پاس امریکی شہریت ہے اور ان کے پاس ’اوورسیز سٹیزن آف انڈیا‘ (او سی آئی) کارڈ بھی ہے۔