ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جناازہ میں نظر آنے والے پراسرار نقاب پوش شخص کی شناخت سے متعلق قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نقاب پوش شخص علی خامنہ ای کے بڑے پوتے محمد جواد خامنہ ای ہیں، جو ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے جس فضائی حملوں میں علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے، اس میں محمد جواد خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے اور ان کے چہرے پر گہرے زخم اور جھلسنے کے نشانات آئے تھے، انہی زخموں کے باعث انہوں نے نمازِ جنازہ میں اپنے چہرے کو سیاہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا۔
شہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
اس سے قبل سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ نقاب پوش شخص علی خامنہ ای کے بیٹے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق بھی مختلف دعوے سامنے آئے، بتایا گیا کہ وہ حملے کے وقت اسی رہائش گاہ میں موجود تھے تاہم دوسرے کمرے میں ہونے کی وجہ سے بچ گئے، البتہ ان کی ٹانگوں، ہاتھ اور بازو پر چوٹیں آئیں اور انہیں اسپتال میں علاج فراہم کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے کوئی خطاب کیا، جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی فوجی قیادت اور اعلیٰ مذہبی شخصیات سے ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہیں۔
واضح رہے کہ علی خامنہ ای کی تدفین 6 روزہ سوگ تقریبات کے بعد ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے میں کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سوگ کی تقریبات میں تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی۔