واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے 12 جولائی کو ایران کے مختلف فوجی اہداف پر ایک اور بڑے فضائی آپریشن کے دوران درجنوں مقامات کو جدید
اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ Politics
سینٹ کام کے جاری کردہ بیان کے مطابق حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام،
ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں، چھوٹی فوجی کشتیوں اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی میں امریکی لڑاکا طیاروں، بحری جنگی جہازوں، فضائی ڈرونز اور سمندری ڈرونز کا استعمال کیا گیا تاکہ ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ امریکی افواج خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور آزادیٔ جہاز رانی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
امریکی فوج نے اپنے بیان میں ایران پر خطے میں مسلسل جارحیت، ہراسانی اور دھمکیوں کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ان سرگرمیوں کے باعث بین الاقوامی بحری تجارت اور علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ Politics
دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تیل کی منڈی، بحری تجارت اور خطے کے امن و استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔