اسرائیلی انتخابات میں تعطل: ایگزٹ پولز سے نیتن یاہو کو دھچکا؛ مخالفین بھی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام—اقتدار کس کے ہاتھ آئے گا؟
اسرائیلی انتخابات کے ایگزٹ پولز (رائے دہندگان کے رجحانات) کسی بھی سیاسی بلاک کے لیے واضح اکثریت کی نشاندہی نہیں کرتے۔ بنجمن نیتن یاہو اور ان کے حریف، گاڈی آئزن کوٹ کے درمیان مقابلہ دلچسپ صورت اختیار کر گیا ہے۔ کیا حتمی نتائج اقتدار کی بساط الٹ دیں گے؟
اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات کے ایگزٹ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی سیاسی بلاک کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی، جس سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی پوزیشن کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ووٹنگ کے بعد، اب شدید سیاسی جوڑ توڑ کا دور متوقع ہے کیونکہ مختلف جماعتیں حکومت سازی کی کوششیں کریں گی۔
یہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے قومی انتخابات ہیں۔ ان انتخابات کو نیتن یاہو کی جنگی قیادت پر ایک عوامی ریفرنڈم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
نہ نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے حریف اکثریت حاصل کر سکے
اسرائیل کے بڑے ٹیلی ویژن چینلز کی جانب سے جاری کردہ ایگزٹ پولز کے مطابق، نہ تو نیتن یاہو کے سیاسی بلاک کو اور نہ ہی ان کے اہم حریف—سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ—کے بلاک کو پارلیمانی اکثریت حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ (نیسٹ) میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے، کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 120 میں سے کم از کم 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایگزٹ پولز کے تخمینوں کی بنیاد پر، ایسا نہیں لگتا کہ کوئی بھی فریق اس حد تک پہنچ سکے گا۔
سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی آ سکتی ہے
اگر حتمی نتائج میں بھی کسی فریق کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوتی، تو مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کے لیے مذاکرات اور کوششوں میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ ایسی صورتحال میں، نئی حکومت کی تشکیل میں کئی دن یا ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ تاہم، ایگزٹ پول حتمی نتائج نہیں ہوتے؛ ان میں ہمیشہ غلطی کی گنجائش (margin of error) موجود رہتی ہے، اور اصل نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔