لندن : کھٹمل ایسا کیڑا ہے جس کا تصور ہی بیشتر افراد کی نیند اڑانے کے لیے کافی ہے، لیکن برطانیہ میں ایک سائنسدان ایسا بھی ہے جو سائنس اور تحقیق کی خاطر نہ صرف ہزاروں کھٹمل پال رہا ہے بلکہ انہیں اپنے جسم سے چپکا کر خون چوسنے دیتا ہے اور بعض اوقات انہی کے ساتھ ایک ہی بستر پر رات بھی گزارتا ہے۔ اس سائنسدان کے پاس تقریباً 60 ہزار کھٹمل موجود ہیں اور وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے انہیں اپنا خون پینے دے رہا ہے۔
برطانوی علاقے گلوسٹر شائر سے تعلق رکھنے والے ماہر حیاتیات ڈاکٹر رچرڈ نیلور کھٹملوں کے خلاف مؤثر ادویات، اسپرے اور جدید آلات کی تیاری اور آزمائش کے لیے ان کیڑوں کی افزائش نسل کرتے ہیں۔ ان کا کام دنیا بھر میں کھٹملوں کے خاتمے کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات کی افادیت جانچنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ڈاکٹر رچرڈ نیلور ہر ہفتے 2 مرتبہ اپنے زیرِ پرورش کھٹملوں میں سے کچھ کو ایک مخصوص پٹی کی مدد سے اپنے بازوؤں کے ساتھ لپیٹ لیتے ہیں اور انہیں خون چوسنے دیتے ہیں۔ اس دوران وہ معمول کے مطابق اپنا کام بھی جاری رکھتے ہیں۔ ان کے لیے یہ کوئی غیر معمولی تجربہ نہیں بلکہ ان کی روزمرہ تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ بن چکا ہے۔
کھٹملوں کے خلاف تیار کی جانے والی نئی مصنوعات، اسپرے اور ادویات کی آزمائش کے لیے ڈاکٹر رچرڈ بعض اوقات رات کو بھی ان کیڑوں کے ساتھ سوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے گھر کے باغ میں 2 خصوصی کمرے تعمیر کر رکھے ہیں، جہاں وہ مختلف تجربات کرتے ہیں اور یہ جانچتے ہیں کہ نئی مصنوعات کھٹملوں کو ختم کرنے یا ان کی سرگرمی روکنے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر رچرڈ کے مطابق کھٹمل انہیں لاکھوں مرتبہ کاٹ چکے ہیں اور اب ان کے کاٹنے سے انہیں پہلے جیسی تکلیف یا خارش محسوس نہیں ہوتی، وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کھٹملوں کو اپنا خون پینے دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے مدافعتی نظام نے ان کے کاٹنے پر ردعمل ظاہر کرنا تقریباً ختم کر دیا ہے۔ تاہم مسلسل خون ضائع ہونے کے باعث بعض اوقات ان میں خون کی کمی سے متعلق علامات بھی سامنے آتی ہیں۔
گلوسٹر شائر کے علاقے فارسٹ آف ڈین میں رہنے والے ڈاکٹر رچرڈ نیلور غیر منافع بخش ادارہ بیڈ بگ فاؤنڈیشن چلا رہے ہیں۔ وہ 2001 سے کھٹملوں پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنی اہلیہ کے تعاون سے گھر کے باغ میں ایک خصوصی تجربہ گاہ بھی قائم کی ہے، جہاں ان کیڑوں کی افزائش اور مختلف مصنوعات کی آزمائش کا کام کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر رچرڈ کا کہنا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اپنے تحقیقی کام کے بارے میں بتاتے ہیں تو اکثر افراد بے اختیار اپنے جسم پر کھجانا شروع کر دیتے ہیں جبکہ بعض لوگ یہ سن کر خوفزدہ بھی ہو جاتے ہیں کہ کوئی شخص ہزاروں کھٹملوں کے ساتھ رہتا اور انہیں اپنا خون پینے دیتا ہے، ان کی اہلیہ بھی ان کے اس غیر معمولی کام میں بھرپور تعاون کرتی ہیں اور ادارے کے لیے کام کرتی ہیں، انہیں ان کھٹملوں سے کوئی حسد نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کھٹملوں کے ساتھ سونے کا بنیادی مقصد نئی مصنوعات اور ادویات کی حقیقی حالات میں آزمائش کرنا ہے، اگر ان مصنوعات کو کسی انسان کی موجودگی کے بغیر آزمایا جائے تو کھٹملوں کا قدرتی رویہ تبدیل ہو جاتا ہے اور تجربے کے نتائج درست نہیں رہتے۔
ڈاکٹر رچرڈ نیلور کے بقول کھٹمل انسانی موجودگی سے متاثر ہوتے ہیں اور انسانی سانس میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی حرارت انہیں متحرک کرتی ہے۔ اگر بستر پر کوئی انسان موجود نہ ہو تو یہ کیڑے عموماً غیر متحرک رہتے ہیں، جس کے باعث نئی ادویات اور اسپرے کی مؤثر آزمائش ممکن نہیں رہتی۔
اسی وجہ سے وہ خود بستر پر موجود رہتے ہیں تاکہ کھٹمل اپنی معمول کی سرگرمی کے مطابق متحرک ہوں اور تیار کردہ مصنوعات کی حقیقی افادیت جانچی جا سکے۔ ان کا یہ طریقہ تحقیق اگرچہ عام لوگوں کے لیے انتہائی خوفناک اور ناقابل تصور ہے، ان کے نزدیک کھٹملوں کے رویے کو سمجھنے اور ان کے خاتمے کے لیے مؤثر طریقے دریافت کرنے میں انسانی موجودگی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ڈاکٹر رچرڈ نیلور کا یہ انوکھا تحقیقی تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ سائنس کی دنیا میں بعض اوقات ایسے طریقے بھی اختیار کیے جاتے ہیں جن کا تصور عام انسان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ جہاں بیشتر افراد ایک کھٹمل کی موجودگی سے پریشان ہو جاتے ہیں، وہیں یہ برطانوی سائنسدان 60 ہزار کھٹملوں کے درمیان رہ کر ان کے رویے کا مطالعہ کر رہا ہے۔