ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کےسیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر جنگ چھڑتی ہے تو جوابی حملے جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں جبکہ انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات بھی نشانے پر آسکتی ہیں۔







