اعظم گڑھ: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے اعظم گڑھ کے اموڑا میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ اس دوران اویسی نے ایک تیر سے دو نشانے لگائے۔
ایودھیا سے الیکشن لڑنے کے حوالے سے سی ایم یوگی اور اکھلیش یادو کے بیچ جاری بیان بازی کے بیچ اویسی نے دونوں لیڈروں کو کھلا چیلنج دے دیا۔ اویسی نے کہا کہ “سی ایم یوگی آپ سنبھل آئیں، اور اکھلیش گورکھپور جائیں، مجلس دونوں جگہوں سے آپ کو الیکشن ہرائے گی۔”
اویسی اکھلیش پر برس پڑے
اسد الدین اویسی نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو اپنی جوانی اپنے والدین کے نام قربان کرنی چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی رہنما کے نام۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اکھلیش یادو نے اقتدار تک پہنچنے کے لیے مسلمانوں کا استعمال کیا، لیکن انہیں برابری کے حقوق نہیں دیے۔
اویسی نے اپنے خطاب کے ذریعے لوگوں سے سیاسی طور پر بیدار ہونے اور اپنی قیادت خود آگے بڑھانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھانی ہوگی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے تقریر میں بی جے پی کی مبینہ مدد کرنے اور مسلمانوں کی آواز اٹھانے سے متعلق اپنے مخالفین کی طرف سے اٹھنے والے سوالوں کا بھی جواب دیا۔
جنتر منتر احتجاج پر اویسی کا بیان
دہلی کے جنتر منتر پر ہوئے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم صدر نے کہا کہ اس قسم کی کارروائیوں سے مظاہرین کے حوصلے نہیں ٹوٹیں گے۔ ان کا اشارہ دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کی طرف تھا۔
اموڑا کے عوامی جلسے میں اویسی نے آئندہ اسمبلی انتخابات، مسلم معاشرے کے حقوق، نوجوانوں کی سیاسی شراکت داری اور اپوزیشن پارٹیوں کے کردار جیسے مسائل پر کھل کر بات کی۔ ان کے خطاب کے مرکز میں سماجوادی پارٹی اور اکھلیش یادو پر نشانہ سرفہرست رہا۔