نئی دہلی: مغربی بنگال، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں اسمبلی کی پانچ نشستوں اور آسام میں لوک سبھا کی ایک نشست کے لیے ہونے والے ضمنی انتخابات نتائج آج جاری کیے جائیں گے۔
ان نشستوں کے لیے پولنگ 6 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ ووٹوں کی گنتی کے مراکز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ضمنی انتخابات مغربی بنگال میں نندی گرام اور ریجی نگر اسمبلی نشستوں، اور تمل ناڈو کے تروپور ضلع (ساتھ ہی چینگل پٹو ضلع) میں دھاراپورم (ایس سی) نشست کے لیے منعقد ہوئے تھے۔
قابلِ ذکر ہے کہ نندی گرام کی نشست اس وقت خالی ہوئی تھی جب سوویندو ادھیکاری نے اس سال کے شروع میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں دو نشستوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور دوسری نشست اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ریجی نگر کی نشست ‘عام جنتا اونیان پارٹی’ (اے جے یو پی) کے بانی ہمایوں کبیر کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، جنہوں نے ناؤڈا سے بھی کامیابی حاصل کی تھی۔
مرکز کے زیرِ انتظام علاقے پڈوچیری میں تھٹانچاواڈی اسمبلی نشست کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی۔
آسام میں ناگاؤں لوک سبھا نشست کے لیے بھی پولنگ ہوئی تھئ، جس میں بی جے پی، کانگریس اور اے آئی یو ڈی ایف کے درمیان سہ رخی مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
ناگاؤں لوک سبھا نشست، جسے کانگریس نے 2019 اور 2024 کے عام انتخابات میں جیتا تھا اس وقت خالی ہوئی جب پردیوت بوردولوئی نے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں 2026 کے آسام اسمبلی انتخابات میں ڈسپور اسمبلی نشست جیتی۔
تمل ناڈو کے وزیر کے اے سینگوٹائین نے کہا کہ دھاراپورم اور مدوران تھکم نشستوں کے نتائج ریاستی حکومت کی کارکردگی پر ایک تاریخی مہرِ تصدیق ثابت ہوں گے۔
‘تملگا ویٹری کزگم’ (ٹی وی کے) کی جیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی وی کے جس فرق سے کامیابی حاصل کرے گی، وہ عوام کو حیران کر دے گا۔ “
انہوں نے مزید کہا کہ، “دھارا پورم اور مدوران تھکم کے ضمنی انتخابات کے نتائج تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ‘تملگا ویٹری کزگم’ کے تحت فراہم کی جانے والی بہترین حکمرانی کا ثبوت ثابت ہوں گے۔
یہ یقینی ہے کہ ہم تمل ناڈو کی سیاست کی تاریخ میں سب سے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کریں گے۔ کامیابی کا یہ فرق اتنا نمایاں ہوگا کہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔ یہ ضمنی انتخاب ایک تاریخی واقعہ ہوگا جو وزیرِ اعلیٰ کی کامیابیوں پر مہرِ تصدیق ثبت کرے گا۔”