دمشق: شام نے یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔
اس حوالے سے سعودی عرب اور شامی حکومت کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے جس میں شامی فوجی دستوں کو یمن بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یمن میں جاری بحران کے خاتمے اور حوثیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے شام کو اس فوجی اتحاد میں شامل ہونے کی باقاعدہ تجویز پیش کی گئی ہے۔
شامی صدر بشار الاسد اس معاملے پر گہری توجہ دے رہے ہیں اور اپنی عسکری قیادت کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔ اگرچہ تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن دمشق کی جانب سے اس پیشکش پر مثبت انداز میں غور کرنے کے اشارے مل رہے ہیں۔
اس اہم پیش رفت سے ٹرمپ انتظامیہ کو بھی بروقت آگاہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اصولی طور پر شامی فوج کی یمن میں ممکنہ تعیناتی کی مخالفت نہیں کر رہا، بلکہ خطے میں جاری اس نئی حکمت عملی کو عالمی سطح پر نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب اور شام کے مابین ہونے والے یہ حالیہ مذاکرات خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر شام اپنے فوجی دستے یمن بھیجنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو اس سے حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں شدت اور نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ یمن میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی نے خطے کے امن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دمشق اور ریاض کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک تنازع کو ختم کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
فی الحال تمام نظریں شامی حکومت کے حتمی فیصلے پر جمی ہیں کہ آیا وہ واقعی یمن کے محاذ پر اپنے فوجی بھیجنے کا فیصلہ کرے گی یا نہیں۔ اس فیصلے کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے جو مشرقِ وسطیٰ کے پورے سیاسی اور عسکری توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔