تہران: ایران کے اعلیٰ عہدیداروں نے شہید سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد اپنے انجام سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق سابق نائب صدر اور سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہید امام کے قاتلوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، ان کی موت طبعی نہیں ہوگی بلکہ یہ نظام اور عوام ان سے اس خون کا انتقام لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ اس سنگین واردات کے ذمہ دار افراد زمین پر سکون کے ساتھ زندہ رہ سکیں، ایران کی پوری قیادت اور عوام اس معاملے پر متحد ہیں اور انصاف کے حصول تک یہ قانونی و عسکری تعاقب جاری رہے گا۔
قبل ازیں ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بھی اپنے بیان میں ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہید سپریم لیڈر کے قتل میں ملوث عناصر کا پیچھا کیا جائے گا، وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپ جائیں اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔
جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ شہید سپریم لیڈر نے ملک میں عزت، خودمختاری اور قومی وقار کا جو راستہ متعین کیا تھا، مسلح افواج اسی مشن پر پوری ثابت قدمی سے گامزن ہیں اور دشمن کی کسی بھی سازش کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں کسی بھی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنے دفاعی فرائض انجام دے رہی ہیں ۔ ملک کے تحفظ کے لیے کسی بھی بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا، جس کا واضح ثبوت حکومتی عزم ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ بیانات خطے کی کشیدہ صورتحال میں ایران کے دفاعی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران اپنے اعلیٰ ترین حکام کے قتل کو قومی وقار کا مسئلہ سمجھتا ہے اور اس کا جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔