ہم نے آگ بجھائی تھی، آپ ہمارے خلاف آگ بھڑکا رہے ہیں، ناشکری پر ایران کی کویت پر تنقید
ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کویت کی ایران پر حملوں میں تعاون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مخالفین کی میزبانی اور ان کے ساتھ تعاون ماضی میں ایرانی مدد کی ناشکری کی علامت ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے 1991 میں کویت کے تیل کے کنوؤں میں لگی آگ بجھانے میں ایران کی تاریخی مدد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مخالفین کی میزبانی اور ان کے ساتھ ایرانی عوام کے خلاف تعاون، ماضی کی اس مدد کے مقابلے میں ناشکری کی علامت ہے۔
تفصیلات کے مطابق بقائی نے 1991 کی ایک تاریخی تصویر شیئر کی، جس میں ایرانی ماہرین کو کویت میں تیل کے جلتے ہوئے کنوؤں کو بجھانے کی کارروائی کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس وقت صدام حسین کی ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ ختم ہوئے صرف تین سال گزرے تھے اور کویت سمیت خلیج تعاون کونسل کے بعض ممالک کی جانب سے صدام حکومت کی حمایت کے اثرات ابھی باقی تھے، اس کے باوجود ایران نے کویتی حکومت کی درخواست پر 47 رکنی ماہرین کا وفد کویت بھیجا۔
بقائی کے مطابق ایرانی ماہرین نے برقان کے عظیم آئل فیلڈ میں 28 تیل کے کنوؤں میں لگی آگ پر قابو پانے کی ذمہ داری سنبھالی، جسے بین الاقوامی دستاویزات میں تاریخ کی سب سے بڑی آئل ویل فائر فائٹنگ کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ حسن ہمسائیگی کی پالیسی پر قائم رہا ہے، لیکن ایران کے دشمنوں کی میزبانی اور ان کے ساتھ تعاون ماضی کی ایرانی مدد کے مقابلے میں ناشکری کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو کانٹے بوتا ہے، وہ انگور کی فصل نہیں کاٹ سکتا۔