ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ مسلح افواج ہر ممکن عسکری منظرنامے کے لیے پہلے سے تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمدرضا اکرمی نیا نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ملک کے تمام حساس علاقوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کو ایرانی جزائر یا ساحلی علاقوں میں ایک قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق جنرل محمدرضا اکرمی نیا نے ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ فوج نے ممکنہ خطرات کے تمام منظرناموں کا پہلے ہی جائزہ لے رکھا ہے اور متعدد فوجی مشقوں کے ذریعے ان پر عملی مشق بھی کی جا چکی ہے۔ اگر کوئی جارح ان علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے وہیں بھرپور فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے اور قوم، آرمی اور سپاہ پاسداران کی کارکردگی آئندہ کئی دہائیوں تک خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مضبوط مقام کا تعین کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری صلاحیت اور خطے میں اس کی پوزیشن کا غلط اندازہ لگایا، جس کے باعث اس نے ایران پر جنگ مسلط کی، تاہم ایرانی مسلح افواج اس نوعیت کے تصادم کے لیے برسوں سے تیاری کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ فوج کی مسلسل جنگی مشقوں، منصوبہ بندی، تربیت اور لاجسٹک تیاریوں کا عملی مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب دشمن کے حملے کے بعد ایرانی افواج نے دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بھرپور جوابی کارروائی کی۔
جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ ایرانی افواج کی دفاعی صلاحیت صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ زمینی حملہ آور قوتیں ایران کی سرحدوں کے قریب آنے کی بھی ہمت نہیں کرسکتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ زمینی مرحلے میں داخل ہوئی تو دشمن کو ایران کے جغرافیے، مسلح افواج کے عزم اور زمینی برتری کے باعث کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، کیونکہ ایرانی فوجی ایمان، تربیت اور مکمل تیاری کے ساتھ وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔