گوہاٹی: آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ، ریاست میں سیلاب سے حالات سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 21 مزید اموات کی اطلاع ہے، اس طرح مہلوکین کی تعداد 62 تک پہنچ گئی ہے۔
سرما نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “آسام میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد اب 62 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں کی روحوں کو ابدی سکون ملے۔”
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ شدید سیلاب کی وجہ سے امدادی ٹیمیں ابھی تک متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پائی ہیں۔
انہوں نے کہا، “2000 سے زیادہ دیہاتوں میں تقریباً 11 لاکھ افراد متاثر ہونے کے ساتھ صورتحال بدستور تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ ہمارے وزراء زمین پر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ میں دو یا تین دنوں میں متاثرہ اضلاع کا دوبارہ دورہ کروں گا تاکہ امدادی اقدامات کی ذاتی طور پر نگرانی کروں۔”
ریاست کے مختلف حصوں میں قائم 162 ریلیف کیمپوں میں اس وقت 41,000 سے زیادہ لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، “اس چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اضلاع کو پہلے ہی تقریباً 111 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، اور ہم ضرورت پڑنے پر اس میں اضافہ کریں گے۔”
انہوں نے بتایا کہ 14,000 کوئنٹل چاول، 2,000 کوئنٹل دال، 58,820 لیٹر سرسوں کے تیل سمیت دیگر اشیاء لوگوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت، حیوانات کے محکموں کے موبائل یونٹ ہر مقام پر موجود ہیں تاکہ بیماری کے کسی بھی ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور متاثرہ افراد کا فوری علاج کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا، “میں ہندوستانی فوج اور ہندوستانی فضائیہ کے افسران کے ساتھ اس بات پر بھی بات کروں گا کہ ہم سیلاب میں پھنسے ہوئے اپنے 100 فیصد لوگوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔”
سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مرکزی ٹیم جلد ہی آسام کا دورہ کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، “ہماری اسسمنٹ ٹیمیں متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی شروع کر دیں گی اور فوری طور پر موبائل ایپ کے ذریعے نقصانات کی اصل حد اپ لوڈ کریں گی۔”