نئی دہلی: روسی صدر ولادیمیر پوتن برکس سربراہی اجلاس 2026 میں شرکت کے لیے آج صبح سویرے نئی دہلی کے پالم ہوائی اڈے پہنچے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے ہوائی اڈے پر روسی صدر کا استقبال کیا۔
سربراہی اجلاس سے قبل، آج وزیر اعظم مودی اور صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات طے ہے۔ توقع ہے کہ بات چیت میں بھارت اور روس کے درمیان دفاع اور اقتصادی تعلقات سمیت کئی اہم امور کا احاطہ کیا جائے گا۔
جمعہ کو وزارت خارجہ نے بھارت اور روس کے درمیان “کثیر جہتی اور دیرینہ” دوطرفہ تعلقات کو سراہا۔ صدر ولادیمیر پوتن اس ہفتے کے آخر میں بھارت میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس سے قبل نئی دہلی پہنچے ہیں۔ ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں، وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ مرکزی وزیر مملکت کیرتی وردھن سنگھ نے دہلی ہوائی اڈے پر روسی صدر کا استقبال کیا۔
انہوں نے بھارت اور روس کے درمیان “کثیر جہتی اور دیرینہ” دوطرفہ تعلقات پر زور دیا۔ جیسوال نے لکھا، “18ویں برکس سربراہی اجلاس کے لیے روسی صدر پوتن کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں۔ بھارت اور روس کے درمیان کثیر جہتی اور دیرینہ تعلقات ہیں، جو ‘خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری’ پر مبنی ہیں۔”
صدر پوتن کی آمد وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اہم بات چیت اور جمعہ کو برکس بزنس فورم سے خطاب کی راہ ہموار کرتی ہے۔ توقع ہے کہ بات چیت کا مرکز اسٹریٹجک تجارتی استحکام ہوگا۔
اس کے علاوہ، مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے درمیان، بات چیت میں سرحد پار ادائیگی کے طریقہ کار، توانائی کے تحفظ اور تنازعات کے حل کے طریقوں پر بھی غور کیے جانے کا امکان ہے۔
کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، پوتن، گروپ کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر بھارت کا ‘ورکنگ وزٹ’ (کام کے سلسلے میں دورہ) کریں گے۔ برکس کا مرکزی سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو بھارت کی صدارت میں نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ کریملن نے اعلان کیا ہے کہ ولادیمیر پوتن 11 ستمبر کو سالانہ برکس بزنس فورم کے مکمل اجلاس سے خطاب کریں گے۔
یہ فورم روایتی طور پر سربراہی اجلاس سے قبل منعقد ہوتا ہے اور اس میں برکس ممالک کے کاروباری نمائندے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسی روز، پوتن وزیر اعظم مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے اور بھارتی لیڈروں کے ہمراہ ‘انٹرنیشنل انڈسٹریل ٹریڈ فیئر’ کا دورہ کریں گے، جس کا اہتمام روس اور بھارت کی وزارتِ صنعت و تجارت نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “11 ستمبر کو ولادیمیر پوتن سالانہ برکس بزنس فورم کے مکمل اجلاس سے خطاب کریں گے؛ یہ فورم روایتی طور پر سربراہی اجلاس سے پہلے منعقد ہوتا ہے اور برکس ممالک کے کاروباری نمائندوں کے درمیان باہمی رابطے اور بات چیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتا ہے۔”
توقع ہے کہ روسی صدر کا یہ دورہ بھارت اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا، جس میں تجارت اور اقتصادی تعاون سے متعلق بات چیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
برکس کی صدارت کے دوران بھارت کی توجہ تجارت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مالیات، توانائی کے تحفظ اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات جیسے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے پر مرکوز رہی ہے۔
ستمبر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں مضبوط عالمی سپلائی چینز، سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کا انضمام، قومی کرنسیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال، ایم ایس ایم ای کی ترقی، ڈیجیٹل تجارت اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔
اس کے علاوہ توانائی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لچک ، ترقیاتی مالیات، ‘نیو ڈیولپمنٹ بینک’ کی توسیع اور کثیر الجہتی مالیاتی و سیاسی اداروں میں اصلاحات پر بھی نمایاں توجہ دیے جانے کی توقع ہے۔
کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، پوتن، گروپ کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر بھارت کا ‘ورکنگ وزٹ’ (کام کے سلسلے میں دورہ) کریں گے۔ برکس کا مرکزی سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو بھارت کی صدارت میں نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔
کریملن نے اعلان کیا ہے کہ ولادیمیر پوتن 11 ستمبر کو سالانہ برکس بزنس فورم کے مکمل اجلاس سے خطاب کریں گے۔
یہ فورم روایتی طور پر سربراہی اجلاس سے قبل منعقد ہوتا ہے اور اس میں برکس ممالک کے کاروباری نمائندے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسی روز، پوتن وزیر اعظم مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے اور بھارتی لیڈروں کے ہمراہ ‘انٹرنیشنل انڈسٹریل ٹریڈ فیئر’ کا دورہ کریں گے، جس کا اہتمام روس اور بھارت کی وزارتِ صنعت و تجارت نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “11 ستمبر کو ولادیمیر پوتن سالانہ برکس بزنس فورم کے مکمل اجلاس سے خطاب کریں گے؛ یہ فورم روایتی طور پر سربراہی اجلاس سے پہلے منعقد ہوتا ہے اور برکس ممالک کے کاروباری نمائندوں کے درمیان باہمی رابطے اور بات چیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتا ہے۔”
توقع ہے کہ روسی صدر کا یہ دورہ بھارت اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا، جس میں تجارت اور اقتصادی تعاون سے متعلق بات چیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
برکس کی صدارت کے دوران بھارت کی توجہ تجارت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مالیات، توانائی کے تحفظ اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات جیسے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے پر مرکوز رہی ہے۔
ستمبر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں مضبوط عالمی سپلائی چینز، سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کا انضمام، قومی کرنسیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال، ایم ایس ایم ای کی ترقی، ڈیجیٹل تجارت اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔
اس کے علاوہ توانائی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لچک ، ترقیاتی مالیات، ‘نیو ڈیولپمنٹ بینک’ کی توسیع اور کثیر الجہتی مالیاتی و سیاسی اداروں میں اصلاحات پر بھی نمایاں توجہ دیے جانے کی توقع ہے۔