ایران اور امریکا کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس تصادم کا ایک اہم مرکز خلیج فارس کی حدود سے باہر اردن کی سرزمین بن چکا ہے۔
تہران کی جانب سے اردن کے صحرائی علاقے ازرق میں واقع موافق السلطی ایئر بیس کو بار بار شدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی فوج کی اس اہم دفاعی تنصیب پر ہونے والے حملوں کے بعد یہ سوال مسلسل اٹھ رہا ہے کہ آخر ایرانی عسکری حکمتِ عملی میں اردن کی یہ بیس اتنی مرکزی اہمیت کیوں اختیار کر چکی ہے۔
تازہ ترین کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران کے پانچ تیل بردار جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس اقدام کے ردِعمل میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو ایک جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے موافق السلطی ایئر بیس پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے۔
پاسدارانِ انقلاب نے ’تسنیم‘ نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ”اس آپریشن میں ٹھوس اور مائع ایندھن والے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے دشمن کے ایف 35، ایف 16 اور ایف 15 جنگی طیاروں کی دیکھ بھال، تیاری اور تعیناتی کے مقامات اور ان کے شیلٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔“
تاہم، اس کارروائی کی شدت کے حوالے سے تہران اور واشنگٹن کے دعوؤں میں بڑا تضاد نظر آتا ہے۔
اردنی مسلح افواج کے مطابق ان کے دفاعی نظام نے سرحد کی طرف آنے والے 20 بیلسٹک میزائلوں میں سے 18 کو فضا ہی میں تباہ کر دیا جبکہ دو کھلے علاقوں میں گرے جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا ’سی بی ایس‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی حملے میں تقریباً آٹھ ایف 15 جنگی طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا جنہیں بعد میں دوبارہ فعال کر لیا گیا، تاہم ایک اے 10 تھنڈر بولٹ طیارے کا ونگ تباہ ہو گیا۔
واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی افواج پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کا یہ سلسلہ جانی نقصان پہنچانے میں ناکام رہا ہے اور ایران کا یہ جواب ہمارے مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سامنے بے اثر ثابت ہوا ہے۔
موافق السلطی ایئر بیس، جسے عام طور پر ازرق بیس کہا جاتا ہے، دارالحکومت عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال شرق میں صحرائے شرق میں واقع ہے۔
یہ نام اردنی پائلٹ لیفٹیننٹ موافق السلطی کی یاد میں رکھا گیا تھا جو 1966 میں معرکہ ساموع کے دوران شہید ہوئے تھے۔
سال 2021 میں امریکا اور اردن کے درمیان ہونے والے ایک دفاعی تعاون کے معاہدے کے تحت امریکی فورسز کو مملکت کے 12 عسکری مراکزی مقامات تک رسائی حاصل ہوئی تھی، جس کے بعد اس ایئر بیس کو امریکی فضائیہ کا سب سے بڑا لاجسٹک اور عسکری مرکز بنا دیا گیا۔
کنگز کالج لندن کے شعبہ وار اسٹڈیز کی لیکچرار تہانی مصطفیٰ کے مطابق ازرق بیس ان چند محدود مراکز میں شامل ہے جہاں امریکا نے اپنے جدید ترین ایف 35، ایف 16 اور ایف 22 جنگی طیارے رکھے ہوئے ہیں، اور یہاں ایسے ہینگرز موجود ہیں جہاں امریکی افواج اپنے اثاثے چھپاتی ہیں اور یہی چیز اسے ایرانی حملوں کا بنیادی ہدف بناتی ہے۔
اردن کا جغرافیائی محل و وقوع بھی اسے اس جنگ میں حد درجے حساس بناتا ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر ڈیوڈ شنکر کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کی نسبت اردن ایران کی سرحد سے قدرے فاصلے پر واقع ہے جس کی وجہ سے یہ امریکا کے لیے ایک بہترین اسٹریٹیجک سیکیورٹی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی اس جنگی حکمت عملی میں اردن کی پوزیشن بے حد بنیادی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف امریکا کو فاصلے کی وجہ سے برتری دیتا ہے۔
اسی اہمیت کی پیشِ نظر جب جنگ کی شروعات میں بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی بیسز پر خطرات بڑھے تو بڑی تعداد میں امریکی عسکری اہلکاروں اور سی 17 پروازوں کو اردن کی اس ازرق بیس پر منتقل کر دیا گیا۔
اس ایئر بیس پر حملہ کرنا دراصل امریکا کے انٹیلی جنس اور فضائی نگرانی کے نظام کو شل کرنے کی ایک ایرانی کوشش ہے۔
امریکا اس بیس کو شام اور عراق کے علاوہ پورے خطے میں ڈرونز اور جنگی طیاروں کے ذریعے نگرانی اور انٹیلی جنس جمع کرنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔
مارچ سے ستمبر تک ایران اس بیس پر 10 سے زائد مرتبہ حملے کا دعویٰ کر چکا ہے۔ جولائی میں ہونے والے ایک ایسے ہی حملے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ ان کے دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔
ایرانی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اردن میں موجود اس عسکری بنیادی ڈھانچے کو غیر فعال یا خوفزدہ کر دیا جائے تو امریکا کے لیے خلیج فارس اور ارد گرد کی فضائی حدود پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا، یہی وجہ ہے کہ موافق السلطی ایئر بیس تہران کی جوابی کارروائیوں کی فہرست میں سب سے اوپر دکھائی دیتی ہے۔