لکھنؤ : اتر پردیش کیڈر کی 2013 بیچ کی آئی اے ایس افسر دیویا متل کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کی ذمہ داریوں سے آزاد ہوگئی ہیں۔ دیویا متل نے 30 اگست کو اپنی مرضی سے آئی اے ایس سے استعفیٰ دیا تھا، جسے اب حکومت نے باضابطہ طور پر منظور کرلیا ہے۔
تقریباً 13 سالہ سرکاری خدمت کے دوران انہوں نے اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں اور خاص طور پر مرزا پور کی ضلع مجسٹریٹ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی کے باعث نمایاں شناخت بنائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں دیویا متل نے کہا کہ عوامی خدمت میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا ایک اہم اور ناقابل فراموش باب ہے۔ انہوں نے اس عرصے کے دوران حکومت اور عوام کی جانب سے ملنے والے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔
دیویا متل کو سب سے زیادہ شہرت مرزا پور کی ضلع مجسٹریٹ کی حیثیت سے حاصل ہوئی، جہاں انہوں نے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے متعدد اقدامات کیے۔
ان کے اہم منصوبوں میں ونڈھیا کے پہاڑی علاقے میں واقع لہوریاداہ گاؤں تک پائپ لائن کے ذریعے نل کا پانی پہنچانے کی کوشش خاص طور پر قابل ذکر رہی۔ اطلاعات کے مطابق گاؤں کے رہائشی کئی دہائیوں سے پینے کے پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔
دیویا متل کی کوششوں کے نتیجے میں گاؤں تک نل کے ذریعے پانی پہنچانے کے منصوبے کو عوامی سطح پر خاصی پذیرائی ملی۔ ان کی مرزا پور سے منتقلی کے وقت بھی مقامی لوگوں، خصوصاً خواتین کی جانب سے جذباتی ردعمل سامنے آیا۔
اطلاعات کے مطابق رخصتی کے موقع پر خواتین نے ان پر پھول نچھاور کیے اور کئی خواتین انہیں الوداع کہتے ہوئے رو پڑیں۔ مرزا پور کے بعد دیویا متل کو اتر پردیش اسٹیٹ رورل لائیولی ہڈ مشن (یو پی ایس آر ایل ایم) کی منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے اتر پردیش اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی ذمہ داری سنبھالی۔ اس سے قبل وہ بریلی میں چیف ڈیولپمنٹ آفیسر کے عہدے پر خدمات انجام دے چکی تھیں۔
اس کے علاوہ وہ گونڈہ اور سنت کبیر نگر کی ضلع مجسٹریٹ بھی رہ چکی ہیں۔ دیویا متل نے ملک کے معروف انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی جبکہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلورو سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کیا۔
سول سروس میں آنے سے قبل انہوں نے لندن میں عالمی مالیاتی خدمات کی معروف کمپنی جے پی مورگن میں بھی ملازمت کی۔ بعد ازاں ہندوستان واپس آکر انہوں نے 2012 میں یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کا سول سروسز امتحان کامیاب کیا اور 2013 بیچ کی آئی اے ایس افسر بنیں۔
ان کے شوہر گگن دیپ سنگھ بھی آئی اے ایس افسر ہیں۔ آئی اے ایس افسر اپنا استعفیٰ متعلقہ کیڈر ریاست کے چیف سکریٹری کو پیش کرتا ہے۔
استعفیٰ منظور کرنے سے قبل مختلف امور کا جائزہ لیا جاتا ہے، جن میں زیرِ التوا محکمانہ کارروائی، ویجیلنس یا تادیبی معاملات اور حکومت کے ذمے واجبات شامل ہوسکتے ہیں۔
اس کے بعد مقررہ طریقۂ کار کے تحت معاملہ مرکزی حکومت کو بھیجا جاتا ہے۔ محکمہ برائے پرسنل اینڈ ٹریننگ (DoPT)، جو مرکزی وزارت برائے پرسنل، پبلک گریونسز اینڈ پنشنز کے تحت کام کرتا ہے، مرکزی سطح پر استعفے کی کارروائی مکمل کرتا ہے اور مجاز اتھارٹی حتمی فیصلہ کرتی ہے۔
آئی اے ایس سے استعفیٰ دینے کے بعد دیویا متل نے اپنی نئی زندگی کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کا اظہار کیا ہے۔ 12 ستمبر کو انہوں نے ویشنو دیوی مندر کے دورے کی ایک ویڈیو ’ایکس‘ پر شیئر کی۔
انہوں نے ویڈیو کے ساتھ اپنے پیغام میں ویشنو دیوی کے درشن کا موقع ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کی یہ پوسٹ استعفے کے بعد ان کی شخصی سرگرمیوں سے متعلق سامنے آئی ہے۔