ممبئی میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس شہر کی داستان محض فلک بوس عمارتوں اور سمندر تک محدود نہیں ہے۔ ’ماں حاجیانی‘ کی درگاہ بھی ایک ایسا ہی مقام ہے جہاں تاریخ، فنِ تعمیر اور عقیدہ آپس میں ملتے ہیں۔

ماں حاجیانی کی درگاہ سے وابستہ تاریخ اور عقائد
• ایک مقدس رشتہ اور سمندر کی کہانی: مقامی روایات کے مطابق، ماں حاجیانی مشہور صوفی بزرگ پیر حاجی علی شاہ بخاری کی ہمشیرہ تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ کے مقدس سفر (حج یا عمرہ) کے دوران سمندر میں ان کا انتقال ہو گیا، اور سمندری لہریں ان کے جسدِ خاکی کو ممبئی کے ساحل کے مختلف مقامات تک لے آئیں۔ جہاں بھائی (حاجی علی) کے باقیات ملے، وہاں ’حاجی علی درگاہ‘ قائم ہوئی، اور جہاں ماں حاجیانی کے باقیات ملے، وہاں ان کی درگاہ تعمیر کی گئی۔

• 1908 میں تعمیر: موجودہ خوبصورت مزار کی تعمیر 1908 میں حاجی اسماعیل ہاشم یوسف نے کروائی تھی، جو ہندوستان کی جہاز رانی کی صنعت کے بانیوں میں سے ایک اور جہازوں کے ممتاز مالک تھے۔ اس احاطے میں ماں حاجیانی کی درگاہ کے علاوہ، خود حاجی اسماعیل اور ان کے صاحبزادے سر محمد یوسف کی قبریں بھی موجود ہیں۔

• چوڑیاں چڑھانے کی منفرد روایت: اس درگاہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں خواتین کو مکمل عقیدت کے ساتھ مرکزی مزار کے قریب جانے کی اجازت ہے۔ یہاں درگاہ کی کھڑکیوں پر سرخ اور سبز رنگ کی شیشے کی چوڑیاں باندھنے کی ایک منفرد روایت ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جو خواتین شادی کی خواہش رکھتی ہیں وہ سرخ چوڑیاں پیش کرتی ہیں، جبکہ جو خواتین اولاد کی نعمت کے لیے دعا گو ہوتی ہیں، وہ سبز چوڑیاں پیش کرتی ہیں۔ 🏛️ فنِ تعمیر

یہ تاریخی مقام اپنے خوبصورت ’انڈو-ساراسینک‘ (Indo-Saracenic) طرزِ تعمیر کے لیے مشہور ہے۔ اس کی تعمیر میں پوربندر سے لایا گیا پتھر استعمال کیا گیا ہے اور اس میں ایک منفرد، مستطیل نما نیلے رنگ کا گنبد شامل ہے۔ 2017 سے 2019 کے درمیان، معروف کنزرویشن آرکیٹیکٹ (ماہرِ تعمیراتِ آثارِ قدیمہ) وکاس دلاوری کی نگرانی میں اس مقام کی بحالی کا کام کیا گیا، جس کے ذریعے اس کی سابقہ شان و شوکت کو کامیابی سے بحال کر دیا گیا۔ 📍 محل وقوع اور رسائی کا طریقہ

ماں حاجیانی درگاہ ممبئی میں ورلی پوائنٹ (Worli Point) پر، ساحلِ سمندر کے بالکل ساتھ ایک اونچی چٹانی جگہ پر واقع ہے۔ یہ حاجی علی درگاہ سے محض 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
• لوکل ٹرین کے ذریعے: قریب ترین ریلوے اسٹیشن مہالکشمی (ویسٹرن لائن پر) اور بائیکلہ (سینٹرل لائن پر) ہیں۔ وہاں سے آپ ٹیکسی یا بس کے ذریعے درگاہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
• بذریعہ سڑک: آپ ممبئی کوسٹل روڈ یا ورلی سی فیس کے راستے ٹیکسی یا ذاتی گاڑی کے ذریعے آسانی سے یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ مرکزی سڑک سے مزار کی طرف جانے والا راستہ کچھ تنگ ہے اور اس میں چڑھائی بھی شامل ہے۔

اونچی دیواروں میں نصب رنگین شیشوں والی بڑی کھڑکیاں، باریک نقش و نگار سے مزین محرابیں، اور چھت کی نفیس سجاوٹ اس مقام کو ایک منفرد انداز عطا کرتی ہیں۔
پھولوں سے سجی چادروں میں لپٹا مزار—جس کے پس منظر میں سیاہ اور سفید رنگ کا فرش ہے—عقیدت مندوں سے گھرا رہتا ہے، جو یہاں ایک گہرا سکون اور سنجیدہ ماحول پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے، زائرین یہاں اپنے اپنے انداز میں دعا اور عبادت میں مصروف نظر آتے ہیں۔




