تیروپتور، تمل ناڈو: تمل ناڈو کے علاقے تیروپتور میں ایک انتہائی غریب خاندان ایک سنگین بحران کی زد میں آ گیا ہے۔ ایک خاتون، جو جوتے بنانے والی فیکٹری میں کام کر کے ماہانہ صرف ساتھ ہزار وپے کماتی ہے، اسے محکمہ کمرشل ٹیکس کی جانب سے 2.30 کروڑ روپے کا جی ایس ٹی نوٹس موصول ہوا ہے۔
صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب محکمے نے اس کا بینک اکاؤنٹ سیز کر دیا، جس کی وجہ سے وہ خواتین کے لیے جاری کردہ سرکاری امدادی رقم (ایک ہزار روپے) بھی نہیں نکلوا سکی۔
امبور میونسپلٹی (ضلع تیروپتور) کے علاقے بیت لحم کے رہائشی عبدالجببار ایک مقامی چائے کے اسٹال پر کام کرتے ہیں۔ ان کی اہلیہ، تھلساتھ، جوتے بنانے والی ایک فیکٹری میں ملازم ہیں۔ چنئی کے علاقے امباتور میں واقع محکمہ کمرشل ٹیکس کے دفتر سے نوٹس ملنے کے بعد یہ خاندان شدید صدمے میں ہے۔ نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ تھلساتھ امباتور میں ایک نجی کمپنی چلاتی ہیں اور ان پر 2,38,72,328 روپے کا جی ایس ٹی واجب الادا ہے۔
اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، تھلساتھ کے شوہر عبدالجببار نے کہا، “میں چائے کے اسٹال پر کام کرتا ہوں اور میری اہلیہ جوتے بنانے والی فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ جب میری اہلیہ اپنی ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ نکلوانے بینک گئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کا اکاؤنٹ سیز کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، وہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے جاری کردہ سرکاری امدادی اسکیم کے تحت ملنے والے 1,000 روپے بھی حاصل نہیں کر سکیں۔”
عبدالجببار نے بتایا کہ جب انہوں نے بینک حکام سے دریافت کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ 2.30 کروڑ روپے کے جی ایس ٹی واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے اکاؤنٹ سیز کیا گیا ہے۔
عبدالجببار نے کہا، “ہم نے تو کبھی اتنی بڑی رقم دیکھی بھی نہیں ہے! پہلے ہی ہم انتہائی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، ایسے میں اکاؤنٹ کا سیز ہونا ہمارے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ ہم نے امبور ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے التجا کرتے ہوئے کہا، “ہم تروپتورضلع میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر بھی گئے، لیکن انہوں نے ہماری درخواست لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم چنئی چلے جائیں۔ ہمارے پاس چنئی جانے کے لیے پیسے تک نہیں ہیں؛ ہمیں تو روزانہ کا کھانا پورا کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
امبور کے علاقے کے رہائشی اور مقامی کاروباری افراد اس وقت شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں جب ایک چائے کے اسٹال پر کام کرنے والے شخص کی اہلیہ کو جی ایس ٹی 2.30 کروڑ روپے ادا کرنے کا نوٹس موصول ہوا۔