برسلز: ایران اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث یورپی یونین کو توانائی کے شعبے میں شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے صرف قیمتوں میں اضافے کے سبب یورپ کو 100 ارب یورو کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑا ہے۔
یورپی کمشنر برائے توانائی ڈین جورگنسن نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس خطیر رقم کی ادائیگی کے باوجود یورپ کو تیل یا گیس کی ایک بھی اضافی مقدار موصول نہیں ہوئی، بلکہ یہ تمام اخراجات صرف بڑھتی قیمتوں کے دباؤ کی وجہ سے ہوئے ہیں۔
اس عالمی توانائی بحران کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال ہے جو تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی تجارت کے لیے ایک کلیدی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ اس اہم سمندری راستے پر ایرانی اثر و رسوخ کے باعث تیل کی ترسیل میں تعطل پیدا ہوا ہے۔
بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہِ راست اثر یورپ میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں بلکہ عام گھریلو صارفین کا بجٹ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
جرمنی جیسے یورپی ممالک ان مالیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جرمن حکومت نے اکتوبر سے دسمبر تک پیٹرول اور ڈیزل پر عارضی ٹیکس میں کمی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دیگر یورپی ممالک بھی سبسڈی دینے پر غور کر رہے ہیں۔
صرف زمینی ٹرانسپورٹ ہی نہیں بلکہ ایوی ایشن انڈسٹری بھی اس بحران کی زد میں ہے۔ معروف جرمن فضائی کمپنی لوفتھانزا نے انتباہ کیا ہے کہ جیٹ فیول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ان کی سالانہ اضافی لاگت کا تخمینہ ڈیڑھ ارب یورو سے کہیں زیادہ تجاوز کر سکتا ہے۔
امریکا بھی اس عالمی بحران سے محفوظ نہیں رہ سکا جہاں شہریوں کو پیٹرول اور ڈیزل کی خریداری پر گزشتہ سال کے مقابلے میں اربوں ڈالر اضافی خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری یہ کشیدگی اب عالمی معیشت اور مہنگائی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔