امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کے اہم ارکان نے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات کی۔
ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی قیام گاہ میں ہونے والے اجلاس کی سربراہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات میں صدر ٹرمپ کے اعلیٰ قومی سلامتی حکام نے ایران جنگ کے اگلے مرحلے اور سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر غور کیا۔
ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ، چیئرمین جوائںٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔
ایلون مسک ایک بار پھر ٹرمپ انتظامیہ میں شامل، پینٹاگون منصوبے کے شریک سربراہ مقرر
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے آئندہ اقدامات پر غور کر رہی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب یمنی حکومتی فورسز کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف ایک بڑے جوابی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
اس کارروائی کا مقصد بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں، بشمول تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب، کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینا ہے۔
امریکا نے اب تک اس کارروائی میں براہِ راست شرکت سے گریز کیا ہے، تاہم وہ غیر جنگی معاونت فراہم کر رہا ہے، جس میں انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات کی فراہمی شامل ہے۔
ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایسی ہی ایک ملاقات جون 2025ء میں ایران پر اسرائیلی حملے سے پہلے ہوئی تھی۔