بھارت میں 600 سالہ تاریخی مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کیلئے ہزاروں مسلمان مسجد کے اندر بیٹھ گئے
ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں سیکڑوں مسلمان 600 سال پرانی تاریخی ‘شاہی مسجد’ کو شہید کیے جانے سے بچانے کے لیے مسجد کے اندر بیٹھ گئے۔
میڈیا کے مطابق پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں انتظامیہ کی جانب سے رات گئے بلڈوزر کے ذریعے مسجد کو شہید کی کوشش کی گئی جسے مقامی افراد نے سخت مزاحمت کے بعد ناکام بنا دیا۔
واضح رہے کہ 2028 میں ہونے والے ہندوؤں کے مذہبی میلے ‘سمہاستھا کمبھ’ سے قبل سڑک کو چوڑا کرنے کے ایک منصوبے کے تحت اس تاریخی مسجد کے کچھ حصے کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
مسجد میں جاری اس احتجاج کا حصہ بننے والے مسلمانوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل یہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے وہ بڑی تعداد میں شفٹوں میں مسجد کے اندر موجود رہیں گے۔
میڈیا کے مطابق گزشتہ رات پولیس کی نفری میں اضافہ کیا گیا، ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کیا گیا اور مسجد کو شہید کرنے کی نیت سے بلڈوزر لائے گئے لیکن جب مسجد کے اندر اور باہر لوگوں کا بڑا ہجوم جمع ہو گیا تو انتظامیہ کو کارروائی روکنی پڑی۔