یوز اداروں کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے خلاف امریکی میڈیا ڈٹ گیا، امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے احتجاجاً صدر ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ کرلیا۔
امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے 3 اہم نیوز اداروں کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے خلاف احتجاجاً صدر ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔
مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے اس یکجہتی کا اظہار صدر ٹرمپ کی جانب سے سی این این ، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں پر وائٹ ہاؤس میں داخلہ بند کرنے کے سبب کیا گیا ہے۔
فاکس نیوز میڈیا، اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، این بی سی نیوز اور سی این این نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عوام کا اہم ترین مفاد ہے کہ وہ حکومت سے متعلق درست اور آزاد معلومات حاصل کریں، کسی انتظامیہ کو بھی نیوز آرگنائزیشنز کو محض اس لیے محدود نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ادارے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت جاری کیاگیاہے جب وائٹ ہاؤس پول نے کہا ہے کہ آج سے ٹی وی پول صدر ٹرمپ کی پول کوریج کو کور نہیں کرے گا اور اس پول کا کوئی متبادل بھی نہیں ہوگا۔
یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی جانب سے سی این این کو اس کی تفویض کردہ ذمہ داریوں سے روکنے کی وجہ سے کیا گیاہے۔
تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کا کہنا ہےکہ وائٹ ہاؤس میں ان کے داخلے کی دستاویز منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
ٹرمپ نے سی این این سمیت 3 بڑے میڈیا اداروں کے نمائندوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی لگا دی
صدر ٹرمپ نے ان تینوں اداروں کے صحافیوں پر داخلہ بند کرتے ہوئے کسی خاص نیوز کی نشاندہی نہیں کی تھی۔ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی تھی کہ دیگر نیوز اداروں کے صحافیوں پر بھی وائٹ ہاؤس کے دروازے بند کیے جاسکتے ہیں۔
سی این این ، ایم ایس ناؤ اور پولیٹکیو نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ صدرٹرمپ کے اقدام کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کریں گے۔
صدرٹرمپ نے پیر کو بھی اپنے بیان میں ان میڈیا اداروں کیخلاف کارروائی کادفاع کرنے کی کوشش کی تھی۔
صدرٹرمپ نے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس آزاد پریس کے خلاف حملہ آور نہیں، یہ فیک نیوز پر حملہ ہے جو کہ امریکا میں کینسر کی طرح پھیل گیا ہے۔