منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مہم کے حصے کے طور پر، اتر پردیش پولیس اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس (ANTF) نے 69 مقدمات میں 78.50 کروڑ روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثے ضبط کیے ہیں۔ ڈی جی پی راجیو کرشنا کے مطابق، اس کارروائی کا مقصد منشیات کے اسمگلروں کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنا اور 2029 تک ریاست کو منشیات سے پاک بنانا ہے۔
اتر پردیش میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کے تحت، پولیس اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس (ANTF) نے اس سال 23 ستمبر تک 69 مقدمات میں تقریباً 78.50 کروڑ روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثے ضبط کیے ہیں۔ جمعرات کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق، منشیات کے اسمگلروں کے اثاثوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ، پولیس اور ANTF نے ‘انسدادِ غیر قانونی تجارت برائے منشیات و نفسیاتی مادے ایکٹ’ (PIT-NDPS) کے تحت ان کے خلاف احتیاطی کارروائی بھی شروع کی ہے۔ ریاستی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) راجیو کرشنا نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد صرف منشیات کے اسمگلروں کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ ان کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنا اور منشیات کی غیر قانونی تجارت کے ذریعے حاصل کیے گئے مبینہ اثاثوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سال 2029 تک اتر پردیش کو منشیات سے پاک بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں 29 مقدمات میں تقریباً 19 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے تھے، جبکہ 23 ستمبر 2026 تک 69 مقدمات میں تقریباً 78.5 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں۔ بیان کے مطابق، منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے حاصل کیے گئے مبینہ اثاثوں کو ابتدائی طور پر ‘نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹنسز ایکٹ’ (NDPS) کی دفعات 68-E اور 68-F کے تحت عارضی طور پر منجمد (freez) کیا جاتا ہے۔
تحقیقات اور متعلقہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے کے بعد ان اثاثوں کو مستقل طور پر ضبط کیا جا سکتا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ اس عمل کا مقصد منشیات کے اسمگلروں کو مالی طور پر کمزور کرنا اور ان کے منشیات کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔