چھتر پور: مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور کے مشہور سیاحتی مقام کھجوراہو میں ایک ہوٹل کے کھانے سے ہونے والی فوڈ پوائزننگ کے سبب چار ملازمین ہلاک ہوگئے جبکہ پانچ کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔
واقعہ پیر کی رات اس وقت پیش آیا جب ہوٹل کے آٹھ ملازمین نے چاول اور آلو، بند گوبھی کی سبزی کھانے کے بعد شدید قے اور بے چینی کی شکایت کی۔
ڈاکٹروں کے مطابق متاثرہ ملازمین کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی جس پر انہیں فوراً ضلع اسپتال لایا گیا، جہاں سے بہتر علاج کے لیے انہیں گوالیار ریفر کر دیا گیا۔ تین ملازمین گوالیار میں علاج کے دوران دم توڑ گئے جبکہ ایک راستے میں جاں بحق ہوا۔
چھترپور ضلع اسپتال کے ڈاکٹر روشن دویدی نے بتایا کہ “متاثرین نے دوپہر تین بجے کھانا کھایا تھا جس کے کچھ ہی دیر بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ صحت محکمے نے ہوٹل کی کچن اور کھانے کے معیار کی جانچ شروع کر دی ہے۔ کچھ مریض اب بھی وینٹی لیٹر پر ہیں۔”
ہلاک اور متاثر افراد کی شناخت بہاری پٹیل (60)، رامسورپ کوشواہا (47)، پرگی لال کوشواہا (45)، گرجا راجک (35)، ریشنی راجک (35)، گولو اگنی ہوتری (25) اور روی (19) کے طور پر ہوئی ہے۔
ان میں سے پرگی لال، گرجا اور رامسورپ موقع پر دم توڑ گئے جبکہ ایک راستے میں ہلاک ہوگیا۔
سول سرجن شارد چورسیا نے بتایا کہ کچھ مریضوں کو حالت تشویشناک ہونے کے باعث گوالیار منتقل کیا گیا ہے۔ ضلع کلکٹر پرتھ جیسوال نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متوفیوں کے اہل خانہ اور زخمیوں کے لیے 20 ہزار روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ تمام کھانے کے نمونے فارنزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔