خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران میں ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اتوار کے روز مسلسل 30ویں دن میں داخل ہو گیا، جس کے باعث لاکھوں شہری عالمی معلومات اور رابطوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
یہ صورت حال امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پیدا ہوئی۔
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ بندش پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر 696 گھنٹوں سے زائد وقت گزر چکا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران میں سنسرشپ کے اس اقدام نے عالمی انٹرنیٹ تک رسائی کو شدید حد تک محدود کر دیا ہے۔
اگرچہ ملک کا داخلی انٹرانیٹ سسٹم بدستور فعال ہے، جس کے ذریعے مقامی میسجنگ ایپس، بینکنگ پلیٹ فارمز اور دیگر خدمات جاری ہیں، تاہم عالمی انٹرنیٹ تک رسائی تقریباً معطل ہے۔
اس صورت حال کے باعث ایرانی شہریوں کو مجبوراً سرکاری کنٹرول والے پلیٹ فارمز یا مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنا پڑ رہے ہیں تاکہ وہ اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ برقرار رکھ سکیں۔